تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 307

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۷ سورة النجم ڈالے گئے لیکن آگ ان پر کوئی اثر نہ کر سکی۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکلیف اٹھانے کو طیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ تکالیف سے بچالیتا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۰ مورخه ۷ ار مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۱) جب تک انسان صدق وصفا کے ساتھ خدا کا بندہ نہ ہو گا۔تب تک کوئی درجہ ملنا مشکل ہے۔جب ابراہیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے شہادت دی وَ ابْراهِيمَ الَّذِي وَفی کہ ابراہیم وہ شخص ہے جس نے اپنی بات کو پورا کیا۔تو اس طرح سے اپنے دل کو غیر سے پاک کرنا اور محبت الہی سے بھرنا ، خدا کی مرضی کے موافق چلنا اور جیسے ظل اصل کا تابع ہوتا ہے ویسے ہی تابع ہونا کہ اس کی اور خدا کی مرضی ایک ہو کوئی فرق نہ ہو۔یہ سب باتیں دُعا سے حاصل ہوتی ہیں۔(البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخه ۱۶ نومبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۳۴) خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اسی لئے ابراہیم کی تعریف کی ہے جیسے کہ فرمایا ہے ابْراهِيمَ الَّذِي وَفَّى کہ اس نے جو عہد کیا اسے پورا کر کے دکھایا۔(البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورخه ۸ /جنوری ۱۹۰۴ء صفحه ۱۵) تعلقات الہی ہمیشہ پاک بندوں سے ہوا کرتے ہیں جیسا کہ فرمایا ہے اِبْراهِيمَ الَّذِى وَقَی لوگوں پر جو احسان کرے ہرگز نہ جتلا وے۔جو ابراہیم کے صفات رکھتا ہے ابراہیم بن سکتا ہے۔الحکم جلد نمبر ۲۴ مورخه ۳۰ جون ۱۹۰۳ صفحه ۱۱) L نامرد، بزدل، بیوفا جو خدا تعالیٰ سے اخلاص اور وفاداری کا تعلق نہیں رکھتا بلکہ دغا دینے والا ہے وہ کس کام کا ہے اس کی کچھ قدر و قیمت نہیں ہے ساری قیمت اور شرف وفا سے ہوتا ہے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو جو شرف اور درجہ ملا وہ کس بناء پر ملا؟ قرآن شریف نے فیصلہ کر دیا ہے ابْراهِيمَ الَّذِي وَفی ابراہیم وہ جس نے ہمارے ساتھ وفاداری کی آگ میں ڈالے گئے مگر انہوں نے اس کو منظور نہ کیا کہ وہ ان کا فروں کو کہہ دیتے کہ تمہارے ٹھاکروں کی پوجا کرتا ہوں خدا تعالیٰ کے لیے ہر تکلیف اور مصیبت کو برداشت کرنے پر آمادہ ہو گئے خدا تعالیٰ نے کہا کہ اپنی بیوی کو بے آب و دانہ جنگل میں چھوڑ آ۔انہوں نے فی الفور اس کو قبول کر لیا ہر ایک ابتلا کو انہوں نے اس طرح پر قبول کر لیا کہ گویا عاشق اللہ تھا۔درمیان میں کوئی نفسانی غرض یہ تھی۔الحکم جلد ۸ نمبر ۴ مورخه ۳۱/جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه ۲،۱) دُنیا میں بھی اگر ایک نوکر خدمت کرے اور حق وفا کا ادا کرے تو جو محبت اس سے ہوگی وہ دوسرے سے کیا ہو سکتی ہے۔جو صرف اس بات پر ناز کرتا ہے کہ میں نے کوئی اُچک پٹا نہیں کیا حالانکہ اگر کرتا تو سزا پاتا۔اتنی بات سے حقوق قائم نہیں ہو سکتے حقوق تو صرف صدق و وفا سے قائم ہو سکتے ہیں جیسے ابراھیم