تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 306
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠٦ سورة النجم کوئی آدمی کسی کو متقی کیوں کر یقین کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے لَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ اور فرماتا ہے هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى اور فرماتا ہے اللہ تعالیٰ ہی عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُور ہے۔ہاں مامور من اللہ کے متقی ہونے اور نہ ہونے کے نشانات بین ہوتے ہیں نہ اور وں کے۔البدر جلد ۳ نمبر ۲۲، ۲۳ مورخه ۸ تا ۶ ارجون ۱۹۰۴ ء صفحه ۲) کبھی یہ دعویٰ نہ کرو کہ میں پاک صاف ہوں جیسے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے فَلا تركوا اَنْفُسَكُمْ کہ تم اپنے آپ کو مز کی مت کہو وہ خود جانتا ہے کہ تم میں سے متقی کون ہے۔وَابْراهِيمَ الَّذِي وَفي البدر جلد ۳ نمبر ۳۴ مورخه ۸ /ستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۳) خدا تعالیٰ کے قرب حاصل کرنے کی راہ یہ ہے کہ اس کے لئے صدق دکھایا جائے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے جو قرب حاصل کیا تو اس کی وجہ یہی تھی۔چنانچہ فرمایا ہے إِبْرَاهِيمَ الَّذِى وَفَّى ابراہیم وہ ابراہیم جس نے وفاداری دکھائی۔خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری اور صدق اور اخلاص دکھانا ایک موت کو چاہتا ہے جب تک انسان دنیا اور اس کی ساری لذتوں اور شوکتوں پر پانی پھیر دینے کو طیارنہ ہو جاوے۔اور اس کی ذلت اور سختی اور تنگی خدا کے لئے گوارا کرنے کو طیار نہ ہو۔یہ صفت پیدا نہیں ہوسکتی۔بت پرستی یہی نہیں کہ انسان کسی درخت یا پتھر کی پرستش کرے بلکہ ہر ایک چیز جو اللہ تعالیٰ کے قرب سے روکتی اور اس پر مقدم ہوتی ہے۔وہ بت ہے اور اس قدربت انسان اپنے اندر رکھتا ہے کہ اس کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ میں بت پرستی کر رہا ہوں۔پس جب تک خالص خدا تعالیٰ ہی کے لئے نہیں ہو جاتا اور اس کی راہ میں ہر مصیبت کی برداشت کرنے کے لئے طیار نہیں ہوتا۔صدق اور اخلاص کا رنگ پیدا ہونا مشکل ہے۔ابراہیم علیہ السلام کو جو یہ خطاب ملا۔کیا یہ یونہی مل گیا تھا ؟ نہیں۔إِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفی کی آواز اس وقت آئی جبکہ وہ بیٹے کی قربانی کے لئے طیار ہو گیا۔اللہ تعالیٰ عمل کو چاہتا ہے اور عمل ہی سے راضی ہوتا ہے۔اور عمل دکھ سے آتا ہے۔لیکن جب انسان خدا کے لئے دکھ اٹھانے کو طیار ہو جاوے تو خد اتعالیٰ اس کو دکھ میں بھی نہیں ڈالتا۔دیکھو۔ابراہیم علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے اپنے بیٹے کو قربان کر دینا چاہا اور پوری طیاری کرلی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بیٹے کو بچالیا۔وہ آگ میں