تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 274

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۴ سورة التويت در ماندہ ہو کر رہ ہی نہ جاوے تم بھی ان چیزوں کو اسی واسطے کام میں لاؤ۔ان سے کام اس واسطے لو کہ یہ تمہیں عبادت کے لائق بنائے رکھیں۔نہ اس لئے کہ وہی تمہارا مقصود اصلی ہوں۔الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۶) عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔عاجزی کا سیکھنا مشکل نہیں ہے۔اس کا سیکھنا ہی کیا ہے انسان تو خود ہی عاجز ہے اور وہ عاجزی کے لئے ہی پیدا کیا گیاہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُون تكبر وغیرہ سب بناوٹی چیزیں ہیں اگر وہ اس بناوٹ کو اتار دے تو پھر اس کی فطرت میں عاجزی ہی نظر آوے گی۔الهدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۱۰۹) ایک بد کار آدمی کو بھی نیک خواب آجاتی ہے کیونکہ فطرتاً کوئی بد نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ تو جب عبادت کے واسطے سب کو پیدا کیا ہے سب کی فطرت میں نیکی بھی رکھی ہے اور خواب نبوت کا حصہ بھی ہے اگر یہ نمونہ ہر ایک کو نہ دیا جاتا تو پھر نبوت کے مفہوم کو سمجھنا تکلیف مالا طاق ہو جا تا اگر کسی کو علم غیب بتلایا جاتا وہ ہر گز نہ سمجھ سکتا۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۷ مورخه ۱۵ رمئی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۲۹) یہ زمانہ ایسا آگیا ہے کہ انسان کی ہستی کی غرض و غایت کو بالکل بھلا دیا گیا ہے خود خدا انسانی خلقت کی غرض تو یہ بتاتا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ مگر آج عبودیت سے نکل کر نادان انسان خود خدا بننا چاہتا ہے اور وہ صدق و وفا، راستی اور تقویٰ جس کو خدا چاہتا ہے مفقود ہے۔بازار میں کھڑے ہو کر اگر نظر کی جاوے تو صد با آدمی ادھر سے آتے اُدھر چلے جاتے ہیں لیکن ان کی غرض اور مقصد محض دُنیا ہے۔اتقام جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ ر مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۹) بے محل استعمال سے حلال بھی حرام ہو جاتا ہے۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ سے ظاہر ہے کہ انسان صرف عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔پس اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے جس قدر اُسے درکار ہے۔اگر اُس سے زیادہ لیتا ہے تو گو وہ شئے حلال ہی ہومگر فضول ہونے کی وجہ سے اس کے لیے حرام ہو جاتی۔ہے۔جو انسان رات دن نفسانی لذات میں مصروف ہے وہ عبادت کا کیا حق ادا کر سکتا ہے۔مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک تلخ زندگی بسر کرے لیکن عیش و عشرت میں بسر کرنے سے تو وہ اس زندگی کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں کرسکتا۔(البدر جلد ۳ نمبر ۲۶ مورخه ۸ جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۳) اصل غرض انسان کی خلقت کی یہ ہے کہ وہ اپنے ربّ کو پہچانے اور اس کی فرمانبرداری کرے جیسا کہ