تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 275
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۵ سورة اللديت اللہ تعالیٰ نے فرما یا مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُونِ میں نے جن اور انس کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں مگر افسوس کی بات ہے کہ اکثر لوگ جو دُنیا میں آتے ہیں بالغ ہونے کے بعد بجائے اس کے کہ اپنے فرض کو سمجھیں اور اپنی زندگی کی غرض اور غایت کو مد نظر رکھیں وہ خدا کو چھوڑ کر دنیا کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور دُنیا کا مال اور اس کی عزتوں کے ایسے دلدادہ ہوتے ہیں کہ خدا کا حصہ بہت ہی تھوڑا ہوتا ہے اور بہت لوگوں کے دل میں تو ہوتا ہی نہیں وہ دُنیا ہی میں منہمک اور فنا ہو ہو جاتے ہیں۔انہیں خبر بھی نہیں ہوتی کہ خدا بھی کوئی ہے ہاں اس وقت پتہ لگتا ہے جب قابض ارواح آکر جان نکال لیتا ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۱) خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی معرفت اور قرب حاصل کرے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ جو اس اصل غرض کو مدنظر نہیں رکھتا اور رات دن دنیا کے حصول کی فکر میں ڈوبا ہوا ہے کہ فلاں زمین خرید لوں۔فلاں مکان بنالوں۔فلاں جائیداد پر قبضہ ہو جاوے۔تو ایسے شخص سے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کچھ دن تک مہلت دے کر واپس بلا لے اور کیا سلوک کیا جاوے۔انسان کے دل میں خدا کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہیے جس کی وجہ سے اس کے نزدیک وہ ایک قابل قدر شے ہو جاوے گا۔اگر یہ درد اس کے دل میں نہیں ہے اور صرف دنیا اور اس کے مافیہا کا ہی درد ہے تو آخر تھوڑی سی مہلت پا کر وہ ہلاک ہو جاوے گا۔(البدر جلد ۴ نمبر ۳ مورخه ۲۰/جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۲) خدا تعالیٰ نے انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے جب کہ اس نے فرما یا مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا ليَعْبُدُونِ پھر جب انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ تاریکی ہی میں پڑا رہے ایسے زمانے میں بالطبع اس کی ذات جوش مارتی ہے کہ کوئی مصلح پیدا ہو۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۷ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۰۶ صفحه ۴) انسان کی پیدائش کی اصل غرض بھی یہی ہے کہ وہ نماز کی حقیقت سیکھے جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مَا خَلَقْتُ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳ مورخه ۱۰/جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۴) الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ تمام جن اور انسان صرف اسی واسطے پیدا کئے گئے تھے کہ وہ خدا تعالیٰ کی معرفت میں ترقی کرتے اور اللہ اور اس کے رسول کے حکموں پر چلتے۔الحاکم جلد ۱۲ نمبر ۳ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۵) میں نے جن اور انس کو پرستش داگی کے لئے پیدا کیا ہے۔( مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۹۰ )