تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 273
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۳ سورة التريت کے مصداق ہوں گے۔یادرکھو کہ یہ وہی مقام ہے، جہاں صوفیوں کے سلوک کا خاتمہ ہے۔جب سالک یہاں پہنچتا ہے، تو خدا ہی خدا کا جلوہ دیکھتا ہے۔اس کا دل عرش الہی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُس پر نزول فرماتا ہے۔سلوک کی تمام منزلیں یہاں آکر ختم ہو جاتی ہیں کہ انسان کی حالت تعبد درست ہو، جس میں رُوحانی باغ لگ جاتے ہیں اور آئینہ کی طرح خدا نظر آتا ہے۔اسی مقام پر پہنچ کر انسان دُنیا میں جنت کا نمونہ پاتا ہے اور یہاں ہی هُذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَأتُوا بِهِ مُتَشَابِها (البقرة : ٢٦) کہنے کا حظ اور لطف اُٹھاتا ہے۔غرض حالت تعبد کی درستی کا نام عبادت ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ ، صفحہ ۹) خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا ليَعْبُدُونِ۔اب اگر انسان خود مومن اور عبد نہیں بنتا ہے اور اپنی زندگی کے اصل منشاء کو پورانہیں کرتا ہے اور پورا حق عبادت ادا نہیں کرتا بلکہ فسق و فجور میں زندگی بسر کرتا ہے اور گناہ پر گناہ کرتا ہے تو ایسے آدمی کو اولاد کے لئے خواہش کیا نتیجہ رکھے گی؟ صرف یہی کہ گناہ کرنے کے لئے وہ اپنا ایک اور خلیفہ چھوڑنا چاہتا ہے۔خود کون سی کمی کی ہے جو اولاد کی خواہش کرتا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۱۰) قرآن شریف میں انسان کی زندگی کا مقصد یہ بتایا گیا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ یعنی جن اور انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔جب انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی ہے تو پھر چاہیے کہ خدا کو شناخت کریں جبکہ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرے اور عبادت کے واسطے اوّل معرفت کا ہونا ضروری ہے جب کچی معرفت ہو جاوے تب وہ اس کی خلاف مرضی کو ترک کرتا اور سچا مسلمان ہو جاتا ہے جب تک سچا علم پیدا نہ ہو کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں ہوتا۔الحکم جلدے نمبر ۷ مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۶،۵) 99991 خدا نے انسان کے سلسلہ پیدائش کی علت غائی صرف اپنی عبادت رکھی ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ الا ليعبدون پس حصر کر دیا ہے کہ صرف صرف عبادت الہی مقصد ہونا چاہیے اور صرف اسی غرض کے لئے یہ سارا کارخانہ بنایا گیا ہے برخلاف اس کے اور ہی اور ارادے اور اور ہی اور خواہشات ہیں۔الحاکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۶) جب خدا کا ارادہ انسانی خلقت سے صرف عبادت ہے تو مومن کی شان نہیں کہ کسی دوسری چیز کو عین مقصود بنالے۔حقوق نفس تو جائز ہیں مگر نفس کی بے اعتدالیاں جائز نہیں۔حقوق نفس بھی اس لئے جائز ہیں کہ تا وہ