تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 223
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۳ سورة محمد اندازہ ہر منہ کر کے دکھلا دے گا اور خدا بھی اس دن بہشتیوں کے لئے حجابوں سے باہر آ جائے گا۔غرض روحانی حالتیں مخفی نہیں رہیں گی بلکہ جسمانی طور پر نظر آئیں گی۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۱، ۴۱۲) فَاعْلَمْ أَنَّهُ لا إله إلا الله وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَت وَاللهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوبِكُم۔جیسا تم دیکھتے ہو کہ نور کے آنے سے ظلمت قائم نہیں رہ سکتی ایسا ہی جب لا إِلهَ إِلَّا اللہ کا نورانی پر توہ دل پر پڑتا ہے تو نفسانی ظلمت کے جذبات کا لمعدوم ہو جاتے ہیں گناہ کی حقیقت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ سرکشی کی ملونی سے نفسانی جذبات کا شور و غوغا ہو جس کی متابعت کی حالت میں ایک شخص کا نام گناہ گار رکھا جاتا ہے اور لا اله الا الله کے معنی جو لغت عرب کے موارد استعمال سے معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ لا مَطلُوبَ لِي وَلَا تَحْبُوبَ لِي وَلَا مَعْبُودَ لِي وَلَا مُطاعَ لِى إِلَّا الله یعنی بجز اللہ کے اور کوئی میرا مطلوب نہیں اور محبوب نہیں اور معبود نہیں اور مطاع نہیں۔اب ظاہر ہے کہ یہ معنی گناہ کی حقیقت اور گناہ کے اصل منبع سے بالکل مخالف پڑے ہیں پس جو شخص ان معنی کو خلوص دل کے ساتھ اپنی جان میں جگہ دے گا تو بالضرورت مفہوم مخالف اس کے دل سے نکل جائے گا کیونکہ ضدین ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں پس جب نفسانی جذبات نکل گئے تو یہی وہ حالت ہے۔جس کو سچی پاکیزگی اور حقیقی راست بازی کہتے ہیں اور خدا کے بھیجے ہوئے پر ایمان لانا جو دوسرے جز کلمہ کا مفہوم ہے اس کی ضرورت یہ ہے کہ تا خدا کے کلام پر بھی ایمان حاصل ہو جائے کیونکہ جو شخص یہ اقرار کرتا ہے کہ میں خدا کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کے فرمانوں پر ایمان بھی لاوے اور فرمان پر ایمان لانا بجز اس کے ممکن نہیں کہ اس پر ایمان لاوے جس کے ذریعہ سے دنیا میں فرمان آیا پس یہ حقیقت کلمہ کی ہے۔(نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۲۰،۴۱۹) تو حید تب ہی پوری ہوتی ہے کہ کل مرادوں کا معطی اور تمام امراض کا چارہ اور مداوا وہی ذات واحد ہو۔لا اله الا اللہ کے معنی یہی ہیں۔صوفیوں نے اس میں الہ کے لفظ سے محبوب، مقصود، معبود مراد لی ہے۔الحکم جلد ۳ نمبر ۱۳ مورخه ۱/۱۲اپریل ۱۸۹۹ء صفحہ ۷ ) قرآن شریف کی تعلیم کا اصل مقصد اور مدعا یہی ہے کہ خدا تعالیٰ جیسا وحدہ لاشریک ہے، ایسا ہی محبت کی