تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 222

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۲ سورة محمد کر جس بلندی اور مقام تک انہیں پہنچایا۔اس ساری حالت کے نقشہ کو دیکھنے سے بے اختیار ہو کر انسان رو پڑتا ہے کہ کیا عظیم الشان انقلاب ہے جو آپ نے کیا۔دنیا کی کسی تاریخ اور کسی قوم میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔یہ نری کہانی نہیں۔یہ واقعات ہیں جن کی سچائی کا ایک زمانہ کو اعتراف کرنا پڑا ہے۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳ مورخه ۲۴ /جنوری ۱۹۰۷ء صفحه ۵) ایک انسان جو دعا نہیں کرتا اس میں اور چار پائے میں کچھ فرق نہیں۔ایسے لوگوں کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے يَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوَى لَّهُمْ یعنی چار یایوں کی زندگی بسر کرتے ہیں اور جہنم التحام جلد ۱۱ نمبر ۳۲ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۷ صفحه ۶) ان کا ٹھکانا ہے۔مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِى وُعِدَ الْمُتَتَّقُونَ فِيهَا أَنْهُرُ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ أَسِ وَانْهَرُ مِنْ تبَن لَّمْ يَتَخَيَّرُ طَعْمُهُ وَ اَنْهُرُ مِنْ خَيْرٍ لَذَّةٍ لِلشَّرِبِينَ : وَ انْهُرُ مِنْ عَسَلٍ مُصَفّى وَلَهُمْ فِيهَا مِنْ كُلِ الثَّمَرَاتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاء حَمِيمًا فَقَطَعَ امْعَاءَهُمْ۔b وہ بہشت جو پرہیز گاروں کو دی جائے گی۔اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک باغ ہے۔اس میں اس پانی کی نہریں ہیں جو بھی متعفن نہیں ہوتا اور نیز اس میں اس دودھ کی نہریں ہیں جس کا کبھی مزہ نہیں بدلتا۔اور نیز اس میں اس شراب کی نہریں ہیں جو سراسر سرور بخش ہے جس کے ساتھ خمار نہیں۔اور نیز اس میں اس شہد کی نہریں ہیں جو نہایت صاف ہے جس کے ساتھ کوئی کثافت نہیں۔اس جگہ صاف طور پر فرمایا کہ اس بہشت کو مثالی طور پر یوں سمجھ لو کہ ان تمام چیزوں کی اس میں نا پیدا کنار نہریں ہیں۔وہ زندگی کا پانی جو عارف دنیا میں روحانی طور پر پیتا ہے۔اس میں ظاہری طور پر موجود ہے اور وہ روحانی دودھ جس سے وہ شیر خوار بچہ کی طرح روحانی طور پر دنیا میں پرورش پاتا ہے۔بہشت میں ظاہر ظاہر دکھائی دے گا اور وہ خدا کی محبت کی شراب جس سے وہ دنیا میں روحانی طور پر ہمیشہ مست رہتا تھا اب بہشت میں ظاہر ظاہر اس کی شہریں نظر آئیں گی۔اور وہ حلاوت ایمانی کا شہد جو دنیا میں روحانی طور پر عارف کے منہ میں ڈالا جاتا تھا وہ بہشت میں محسوس اور نمایاں نہروں کی طرح دکھائی دے گا اور ہر ایک بہشتی اپنی نہروں اور اپنے باغوں کے ساتھ اپنی روحانی حالت کا