تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 224
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۴ سورة محمد رُو سے بھی اس کو وحدہ لاشریک یقین کیا جاوے اور کل انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کا اصل منشاء ہمیشہ یہی رہا ہے۔چنانچہ لا إله إلا الله جیسے ایک طرف توحید کی تعلیم دیتا ہے ساتھ ہی توحید کی تکمیل محبت کی ہدایت بھی کرتا ہے اور جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے۔یہ ایک ایسا پیارا اور پر معنی جملہ ہے کہ اس کی مانند ساری تورات اور انجیل میں نہیں اور نہ دنیا کی کسی اور کتاب نے کامل تعلیم دی ہے۔الہ کے معنی ہیں ایسا محبوب اور معشوق جس کی پرستش کی جاوے۔گویا اسلام کی یہ اصل محبت کے مفہوم کو پورے اور کامل طور پر ادا کرتی ہے۔یاد رکھو کہ جو تو حید بدوں محبت کے ہو وہ ناقص اور ادھوری ہے۔(الحکم جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۲ صفحه ۵) توحید کے مراتب ہوتے ہیں۔بغیر ان کے توحید کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی۔نرالا إله إلا الله ہی کہہ دینا کافی نہیں۔یہ تو شیطان بھی کہہ دیتا ہے۔جب تک عملی طور پر لا اله إلا الله کی حقیقت انسان کے وجود میں متحقق نہ ہو۔کچھ نہیں۔یہودیوں میں یہ بات کہاں ہے؟ آپ ہی بتادیں۔توحید کا ابتدائی مرحلہ اور مقام تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول کے خلاف کوئی امر انسان سے سرزد نہ ہو۔اور کوئی فعل اس کا اللہ تعالیٰ کی محبت کے منافی نہ ہو۔گو یا اللہ تعالیٰ ہی کی محبت اور اطاعت میں محو اور فنا ہو جاوے۔اسی واسطے اس کے معنے یہ ہیں لا مَعْبُودَ لِي وَلَا مَحْبُوبَ لِي وَ لَا مُطَاعَ لِي إِلَّا الله یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی میرا معبود ہے اور نہ کوئی محبوب ہے اور نہ کوئی واجب الاطاعت ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۷ رنومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۷) کلمہ جو ہم ہر روز پڑھتے ہیں اس کے کیا معنے ہیں؟ کلمہ کے یہ معنے ہیں کہ انسان زبان سے اقرار کرتا ہے اور دل سے تصدیق کہ میرا معبود، محبوب اور مقصود خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں۔الہ کا لفظ محبوب اور اصل مقصود اور معبود کے لئے آتا ہے۔یہ کلمہ قرآن شریف کی ساری تعلیم کا خلاصہ ہے جو مسلمانوں کو سکھایا گیا ہے۔چونکہ ایک بڑی اور مبسوط کتاب کا یاد کرنا آسان نہیں۔اس لیے یہ کلمہ سکھا دیا گیا تا کہ ہر وقت انسان اسلامی تعلیم کے مغز کو مدنظر رکھے اور جب تک یہ حقیقت انسان کے اندر پیدا نہ ہو جاوے۔بیچ یہی ہے کہ نجات نہیں۔اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ يعنى جس نے صدق دل سے لا الہ الا الله کو مان لیا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔لوگ دھو کہ کھاتے ہیں۔اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ طوطے کی طرح لفظ کہہ دینے سے انسان جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔اگر اتنی ہی حقیقت اس کے اندر ہوتی تو پھر سب اعمال بے کار اور نکھے ہو جاتے اور شریعت (معاذ اللہ ) لغو ٹھہرتی نہیں ! بلکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ مفہوم جو اس میں رکھا گیا ہے وہ عملی رنگ میں انسان کے دل میں داخل ہو جاوے۔جب