تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page xxv
صفحہ ۳۵۵ ۳۵۸ ۳۶۱ ۳۶۳ ۳۶۷ ۳۷۲ ۳۷۴ ۳۷۵ ۳۷۷ ۳۷۸ XXIV مضمون نمبر شمار ۲۳۲ تفسیر قرآن کریم کا معیار کہ خود اپنا نفس مطہر لے کر قرآن کریم میں غور کرنا ۲۳۳ دنیاوی علوم کی تحصیل کے لئے تقوی وطہارت کی ضرورت نہیں لیکن دینی ۲۳۴ علوم کی تحصیل کے لئے تقوی وطہارت کی ضرورت ہے مسیح اللہ کے اسم آخر کا مظہر ہے جس کی طرف هُوَ الْأخر میں اشارہ ہے ۲۳۵ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ۔خدا کے الوہیت کے تخت پر بیٹھنے سے اشارہ ۲۳۶ قرآن شریف نے خود اپنے آنے کی ضرورت پیش کی کہ اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يخي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۲۳۷ حدید نے اپنا فعل بأس شدید کا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کیا مگر اس کے فعل منافع للناس کا وقت مسیح اور مہدی کا زمانہ ہے ۲۳۸ رہبانیت اگر خدا کا حکم ہوتا اور سب لوگ اس پر عمل کرتے تو اس صورت میں بنی آدم کی قطع نسل ہو کر کبھی کا دنیا کا خاتمہ ہو جاتا ۲۳۹ اعلیٰ درجہ کی کرامت اولیاء اللہ یہی ہے کہ ان کے تمام حواس اور عقل اور فہم اور قیاس میں نور رکھا جاتا ہے ۲۴۰ جو شخص اپنی عورت کو ماں کہہ بیٹھے اور پھر رجوع کرے تو عورت کو چھونے سے پہلے گردن آزاد کرے ۲۴۱ پس ضرور ہے کہ بموجب آیت کریمہ كَتَبَ اللهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلى میری فتح ہو ۲۴۲ كَتَبَ اللهُ لاَغْلِبَنَ آنَا وَرُسُلِی میں غلبہ سے مراد