تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page xxiii
صفح ۳۱۴ ۳۱۶ ۳۱۷ ٣٢٠ ۳۲۱ ٣٢٢ ۳۲۳ ۳۲۳ ۳۲۴ ۳۲۷ ۳۲۷ ۳۲۹ xxii نمبر شمار ۲۰۶ مضمون لق القمر قوانین قدرتیہ کے برخلاف ہے کا جواب ۲۰۷ یہ اعتراض کہ کیوں کر چاند دو ٹکڑے ہو کر آستین میں سے نکل گیا یہ سراسر ۲۰۸ بے بنیاد اور باطل ہے سوال کا جواب کہ شق القمر خلاف عقل ہے جس سے انتظام ملکی میں خلل پڑتا ہے ۲۰۹ مسئلہ شق القمر ایک تاریخی واقعہ ہے جو قرآن شریف میں درج ہے العمرایک واقعہ درج مخالفین اسلام کا چپ رہنا شق القمر کے ثبوت کی دلیل ہے کہ وہ ضرور ۲۱۰ ۲۱۱ ۲۱۲ ۲۱۳ ۲۱۴ فق القمر مشاہدہ کر چکے تھے ابھی کچھ ضروری معلوم نہیں ہوتا کہ واقعہ شق القمر جو چند سیکنڈ سے کچھ زیادہ نہیں تھا ہر یک ولایت کے لوگ اطلاع پا جائیں فق القمر کے واقعہ پر ہندوؤں کی معتبر کتابوں میں بھی شہادت پائی جاتی ہے نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں شق القمر کی حکمت یہ جو کہا گیا کہ قیامت کی گھڑی کا کسی کو علم نہیں سوشریعت کا یہ مطلب نہیں لہ قیامت کا وقوع پھر ایک پہلو سے پوشیدہ ہے ۲۱۵ عض نادان شق القمر کے معجزہ پر قانون قدرت کی آڑ میں چھپ کر اعتراض کرتے ہیں نق القمر اور نَارُ كُونِي بَرْدَا وَ سَلما کے معجزات بھی خارج از اسباب نہیں ق القمر دراصل ایک قسم کا خسوف ہی تھا ودرو يُهزم الجمع ويُولُونَ الدُّبُر میں فتح بدر کی پیشگوئی ۲۱۶ ۲۱۷ ۲۱۸