تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 176
سورة الشورى تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جسمانی عالم سے قطعاً باہر لے جاتا ہے، اس لئے کہ اس عالم سے پوری مناسبت ہو جائے۔پھر یوں ہوتا ہے کہ جب ایک مرتبہ کلام کر چکتا ہے۔پھر ہوش و حواس واپس دے دیتا ہے۔اس لئے کہ مہم اس کلام کو محفوظ کر لے۔اس کے بعد پھر ربودگی طاری کرتا ہے۔پھر یاد کرنے کے لئے بیداری کر دیتا ہے۔غرض اس طرح بھی پچاس دفعہ تک نوبت پہنچ جاتی ہے وہ ایک تصرف الہی ہوتا ہے۔اس طبعی نیند سے اس کو کوئی تعلق نہیں اور اطباء اور ڈاکٹر اس کی ماہیت کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۰ صفحه ۱۰) اس سوال کے جواب میں کہ وحی کس طرح ہوتی ہے؟ فرمایا ) کئی طریق ہیں بعض دفعہ دل میں ایک گونج پیدا ہوتی ہے۔کوئی آواز نہیں ہوتی۔پھر اس کے ساتھ ایک شگفتگی پیدا ہوتی ہے اور بعض دفعہ تیزی اور شوکت کے ساتھ ایک لذیذ کلام زبان پر جاری ہوتا ہے جو کسی فکر ، ( بدر جلد نمبر ۳۳ مورخه ۶ /نومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۳) تدبر اور وہم و خیال کا نتیجہ نہیں ہوتا۔بعض دفعہ الہام الہی ایسی سرعت کے ساتھ ہوتا ہے جیسا کہ ایک پرندہ پاس سے نکل جاتا ہے اور اگر اسی وقت لکھ نہ لیا جاوے یا اچھی طرح سے یاد نہ کر لیا جاوے تو بھول جانے کا خوف ہوتا ہے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۷ء صفحه ۴) ہم کو تو خدا تعالیٰ کے اس کلام پر جو ہم پر وحی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے اس قدر یقین اور علی وجہ البصیرت یقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑا کر کے جس قسم کی چاہو قسم دے دو۔بلکہ میرا تو یقین یہاں تک ہے کہ اگر میں اس بات کا انکار کروں یا و ہم بھی کروں کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں تو معا کا فر ہو جاؤں۔الحکم جلد ۴ نمبر ۴۴ مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۰ ء صفحه ۶) میرا تو خدا کی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسے اس کی کتابوں پر ہے۔(البدر جلد ۳ نمبر ۱۹۷۱۸ مورخه ۱۶۹۸ رمئی ۱۹۰۴ء صفحه ۴) میں تو اپنی وحی پر ویسے ہی ایمان لاتا ہوں جیسے کہ قرآن شریف اور توریت کے کلام الہی ہونے پر۔(البدر جلد ۳ نمبر ۲۲، ۲۳ مورخه ۸ و ۱۶ رجون ۱۹۰۴ ء صفحه ۴) ہم تو جو کچھ خدا سے پاتے ہیں خواہ اس کو عقل اور فلسفہ مانے یا نہ مانے ہم اس کو ضرور مانتے اور اس پر ایمان لاتے ہیں۔احکم جلد ۸ نمبر ۲۳، ۲۴ مورخه ۷ ار جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۱۶) مکہ معظمہ میں داخل ہو کر اگر خدا تعالیٰ کی قسم دی جاوے تو میں کہوں گا کہ میرے الہام خدا تعالیٰ کی