تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 167

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۷ سورة الشورى سچا الہام جو خالص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے مندرجہ ذیل علامتیں اپنے ساتھ رکھتا ہے :۔ (۱) وہ اس حالت میں ہوتا ہے کہ جب کہ انسان کا دل آتش درد سے گداز ہو کر مصفا پانی کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف بہتا ہے۔ اسی طرف حدیث کا اشارہ ہے کہ قرآن غم کی حالت میں نازل ہوا لہذا تم بھی اس کو غمناک دل کے ساتھ پڑھو۔ (۲) سچا الہام اپنے ساتھ ایک لذت اور سرور کی خاصیت لاتا ہے اور نامعلوم وجہ سے یقین بخشا ہے اور ایک فولادی میخ کی طرح دل کے اندر دھنس جاتا ہے اور اس کی عبارت فصیح اور غلطی سے پاک ہوتی ہے۔ (۳) سچے الہام میں ایک شوکت اور بلندی ہوتی ہے اور دل پر اس سے مضبوط ٹھوکر لگتی ہے اور قوت اور رعبناک آواز کے ساتھ دل پر نازل ہوتا ہے۔ مگر جھوٹے الہام میں چوروں اور مخنثوں اور عورتوں کی سی دھیمی آواز ہوتی ہے کیونکہ شیطان چور اور مخنث اور عورت ہے۔ (۴) سچا الہام خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا اثر اپنے اندر رکھتا ہے اور ضرور ہے کہ اس میں پیشگوئیاں بھی ہوں اور وہ پوری بھی ہو جائیں ۔ (۵) سچا الهام انسان کو دن بدن نیک بناتا جاتا ہے اور اندرونی کثافتیں اور غلاظتیں پاک کرتا ہے اور اخلاقی حالتوں کو ترقی دیتا ہے۔ (1) سچے الہام پر انسان کی تمام اندرونی قوتیں گواہ ہو جاتی ہیں اور ہر ایک قوت پر ایک نئی اور پاک روشنی پڑتی ہے اور انسان اپنے اندر ایک تبدیلی پاتا ہے اور اس کی پہلی زندگی مر جاتی ہے اور نئی زندگی شروع ہوتی ہے۔ اور وہ بنی نوع کی ایک عام ہمدردی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ (۷) سچا الہام ایک ہی آواز پرختم نہیں ہوتا کیونکہ خدا کی آواز ایک سلسلہ رکھتی ہے۔ وہ نہایت ہی حلیم ہے جس کی طرف توجہ کرتا ہے اس سے مکالمت کرتا ہے اور سوالات کا جواب دیتا ہے اور ایک ہی مکان اور ایک ہی وقت میں انسان اپنے معروضات کا جواب پا سکتا ہے گو اس مکالمہ پر کبھی فترت کا زمانہ بھی آجاتا ہے۔ (۸) سچے الہام کا انسان کبھی بزدل نہیں ہوتا اور کسی مدعی الہام کے مقابلہ سے اگر چہ وہ کیسا ہی مخالف ہو نہیں ڈرتا۔ جانتا ہے کہ میرے ساتھ خدا ہے اور وہ اس کو ذلت کے ساتھ شکست دے گا۔