تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 168

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۸ سورة الشورى (۹) سچا الهام اکثر علوم اور معارف کے جاننے کا ذریعہ ہوتا ہے۔کیونکہ خدا اپنے ملہم کو بے علم اور جاہل رکھنا نہیں چاہتا۔(۱۰) سچے الہام کے ساتھ اور بھی بہت سی برکتیں ہوتی ہیں اور کلیم اللہ کو غیب سے عزت دی جاتی ہے اور رعب عطا کیا جاتا ہے۔( ضرورة الامام ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۹۰،۴۸۹) خدا کا الہام غلطی سے پاک ہوتا ہے مگر انسان کا کلام غلطی کا احتمال رکھتا ہے کیونکہ سہو ونسیان لازمہ مام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۷۲) بشریت ہے۔جو لوگ شیطان سے الہام پاتے ہیں ان کے الہاموں کے ساتھ کوئی قادرانہ غیب گوئی کی روشنی نہیں ہوتی جس میں الوہیت کی قدرت اور عظمت اور ہیبت بھری ہوئی ہو۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۱۰) خدا کا کلام جس قوت اور برکت اور روشنی اور تاثیر اور لذت اور خدائی طاقت اور چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ دل پر نازل ہوتا ہے خود یقین دلا دیتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور ہرگز مردہ آوازوں سے مشابہت نہیں رکھتا بلکہ اس کے اندر ایک جان ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک طاقت ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک کشش ہوتی ہے اور اس کے اندر یقین بخشنے کی ایک خاصیت ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک لذت ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک روشنی ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک خارق عادت تجلی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ذرہ ذرہ وجود پر تصرف کرنے والے ملایک ہوتے ہیں اور علاوہ اس کے اس کے ساتھ خدائی صفات کے اور ( نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۶۴) بہت سے خوارق ہوتے ہیں۔جس دل پر در حقیقت آفتاب وحی الہی محلی فرماتا ہے اس کے ساتھ ظن اور شک کی تاریکی ہرگز نہیں رہتی۔کیا خالص نور کے ساتھ ظلمت رہ سکتی ہے۔( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۶۷) اکثر لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ پھر رحمانی الہام کی نشانی کیا ہے اس کا جواب یہی ہے کہ اس کی کئی نشانیاں ہیں۔(1) اول یہ کہ الہی طاقت اور برکت اس کے ساتھ ایسی ہوتی ہے کہ اگر چہ اور دلائل ابھی ظاہر نہ ہوں وہ طاقت بڑے جوش اور زور سے بتلاتی ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور ملہم کے دل کو ایسا اپنا مسخر بنالیتی ہے کہ اگر اس کو آگ میں کھڑا کر دیا جاوے یا ایک بجلی اس پر پڑنے لگے وہ کبھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ الہام