تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 166

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۶ سورة الشورى ایسی کامل علامت ہے جو کوئی اس کو تو ڑ نہیں سکتا۔یہی علامت ہے جس سے خدا کے سچے نبی جھوٹوں پر غالب آتے رہے ہیں کیونکہ جو شخص دعوی کرے کہ میرے پر خدا کا کلام نازل ہوتا ہے پھر اس کے ساتھ صد بانشان ظاہر ہوں اور ہزاروں قسم کی تائید اور نصرت الہی شامل حال ہو اور اُس کے دشمنوں پر خدا کے کھلے کھلے حملے ہوں پھر کس کی مجال ہے کہ ایسے شخص کو جھوٹا کہہ سکے۔مگر افسوس کہ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں کہ اس بلا میں پھنس جاتے ہیں کہ کوئی حدیث النفس یا شیطانی وسوسہ اُن کو پیش آجاتا ہے تو اُس کو خدا تعالیٰ کا کلام سمجھ لیتے ہیں اور فعلی شہادت کی کچھ بھی پروا نہیں رکھتے۔ہاں یہ بھی ممکن ہے کہ کسی کو بھی شاذ و نادر کے طور پر کوئی سچی خواب آجائے یا سچا الہام ہو جائے مگر وہ صرف اس قدر سے مامور من اللہ نہیں کہلا سکتا اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ نفسانی تاریکیوں سے پاک ہے بلکہ اس قدر رؤیا اور الہام میں قریباً تمام دنیا شریک ہے اور یہ کچھ بھی چیز نہیں اور یہ مادہ کبھی کبھی خواب یا الہام ہونے کا محض اس لئے انسانوں کی فطرت میں رکھا گیا ہے تا ایک عقلمند انسان خدا کے برگزیدہ رسولوں پر بدظنی نہ کر سکے اور سمجھ سکے کہ وحی اور الہام کا ہر ایک انسان کی فطرت میں تخم داخل ہے پھر اس کی کامل ترقی سے انکار کرنا حماقت ہے۔لیکن وہ لوگ جو خدا کے نزدیک ملہم اور مکلم کہلاتے ہیں اور مکالمہ اور مخاطبہ کا شرف رکھتے ہیں اور دعوت خلق کے لئے مبعوث ہوتے ہیں ان کی تائید میں خدا تعالیٰ کے نشان بارش کی طرح برستے ہیں اور دنیا اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور فعل الہی اپنی کثرت کے ساتھ گواہی دیتا ہے کہ جو کلام وہ پیش کرتے ہیں وہ کلام الہی ہے۔اگر الہام کا دعویٰ کرنے والے اس علامت کو مد نظر رکھتے تو وہ اس فتنہ سے بچ جاتے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۳۵ تا ۵۳۸) سچی وحی کا خدائے تعالی نے یہی نشان دیا ہے کہ جب وہ نازل ہوتی ہے تو ملائک بھی اس کے ساتھ ضرور اُترتے ہیں اور دُنیا دن بدن راستی کی طرف پلٹا کھاتی جاتی ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۳۹) وَ مَنْ تَفَوَّهَ بِكَلِمَةٍ لَيْسَ لَهُ أَصْلُ جو شخص بھی ایسا کلمہ منہ سے نکالتا ہے جس کی حقیقی بنیاد صَحِيحُ فِي الشّرعِ مُلْهَمَّا كَانَ اَوْ مُجْتَهِدًا فَبِهِ شریعت پر نہ ہو خواہ وہ ملہم ہو یا مجتہد اس کے ساتھ شیاطین کھیل رہے ہوتے ہیں۔الشَّيَاطِينُ مُتَلَاعِبَةٌ۔آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۱) ( ترجمه از مرتب)