تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xx of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page xx

صفحہ ۲۵۴ ۲۵۶ ۲۵۷ ۲۶۱ ۲۶۲ ۲۶۵ ۲۶۳ ۲۶۶ ۲۶۶ ۲۶۷ ۲۶۸ ۲۷۰ ۲۷۷ ۲۸۲ Xix نمبر شمار ۱۶۹ ۱۷۰ 121 مضمون خدا کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے یہ جو مختلف ذا تیں ہیں یہ کوئی وجہ شرافت نہیں حضرت ابو بکر اور حضرت یشوع بن نون میں ایک مناسبت مومنوں کی تعریف میں رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ فرمایا جبکہ الناس جن پر ایمان لانے کے بعد ابتلا کے موقعے نہیں آئے وہ اسکمنا میں داخل ہیں ۱۷۲ خدا کے افعال گونا گوں ہیں اس کی قدرت کبھی درماندہ نہیں ہوئی ۱۷۳ سلوک کے خاتمہ کا مقام ۱۷۴ فَالْمُقَسمت آمرا میں سلسلہ عمل روحانیہ کا بیان ۱۷۵ وَ مَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوب اس لفظ کا رد ہے کہ خدا نے ساتویں دن آرام کیا 127 قُتِلَ الْخَرَصُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي غَرَةٍ سَاهُونَ میں عمرہ کے معنی ۱۷۷ وَفي اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ میں محروم سے مراد ۱۷۸ مومنوں متقیوں سے خدا تعالی کا رزق دینے کا وعدہ ہے ۱۷۹ ایک طرف تدابیر کی رعایت ہو اور دوسری طرف تو کل بھی پورا ہو آيت وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ کی رو سے انسان کی پیدائش کی علت غائی عبادت ہے 129 ۱۸۰ ۱۸۲ ہستی باری تعالی کی دلیل که وجود تمام اشیاء ممکنہ کا بغیر ذریعہ واجب الوجود کے محالات خمسہ کو مستلزم ہے وَ النَّجْمِ اِذَا هَوى کا مطلب ہے جب کبھی خدا تعالیٰ کا کوئی نشان زمین پر ظاہر ہونے والا ہوتا ہے تو اس سے پہلے آسمان پر کچھ آثار ظاہر ہوتے ہیں