تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 165

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الشورى پیش نہ کرے ورنہ خواہ مخواہ لوگوں کے اعتراضات کا نشانہ ہو جائے گا۔اور نیز یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کلام حدیث النفس ہو یعنی نفس کی طرف سے ایک کلمہ زبان پر جاری ہو جیسے اکثر بچے جو دن کو کتابیں پڑھتے ہیں رات کو بعض اوقات وہی کلمات ان کی زبان پر جاری ہو جاتے ہیں۔غرض کسی کلمہ کا جو بدعوی الہام پیش کیا گیا ہے قرآن شریف سے مطابق ہونا اس بات پر قطعی دلیل نہیں ہے کہ وہ ضرور خدا کا کلام ہے۔کیا ممکن نہیں کہ ایک کلام اپنے معنوں کی رو سے خدا کے کلام کے مخالف بھی نہ ہو اور پھر وہ کسی مفتری کا افترا بھی ہو کیونکہ ایک مفتری بڑی آسانی سے یہ کارروائی کر سکتا ہے کہ وہ قرآن شریف کی تعلیم کے موافق ایک کلام پیش کرے اور کہے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا ہے اور یا ایسا کلام حدیث النفس ٹھہر سکتا ہے یا شیطانی کلام ہو سکتا ہے۔ایسا ہی یہ دوسری شرط بھی یعنی یہ کہ جو الہام کا دعویٰ کرے وہ صاحب تزکیہ نفس ہو قابل اطمینان نہیں بلکہ ایک پوشیدہ امر ہے اور بہتیرے نا پاک طبع لوگ اس بات کا دعوی کر سکتے ہیں کہ ہمارا نفس تزکیہ یافتہ ہے اور ہم خدا سے سچی محبت رکھتے ہیں۔پس یہ امر بھی کوئی سہل امر نہیں کہ اس میں جلد تر صادق اور کاذب میں فیصلہ کیا جاوے یہی وجہ ہے کہ کئی خبیث النفس لوگوں نے اُن برگزیدوں پر جو صاحب تزکیہ نفس تھے ناپاک تہمتیں لگائی ہیں جیسا کہ آج کل کے پادری ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمتیں لگاتے ہیں اور نعوذ باللہ کہتے ہیں کہ آپ نفسانی شہوات کا اتباع کرتے تھے جیسا کہ اُن کے ہزاروں رسالوں اور اخباروں اور کتابوں میں ایسی تہمتیں پاؤ گے۔ایسا ہی یہودی لوگ حضرت عیسی علیہ السلام پر طرح طرح کی تہمتیں لگاتے ہیں۔چنانچہ تھوڑی مدت ہوئی ہے کہ میں نے ایک یہودی کی کتاب دیکھی جس میں نہ صرف یہ نا پاک اعتراض تھا کہ نعوذ باللہ حضرت عیسی کی ولادت ناجائز طور پر ہے بلکہ آپ کے چال و چلن پر بھی نہایت گندے اعتراض کئے تھے اور جو آپ کی خدمت میں بعض عورتیں رہتی تھیں بہت بڑے پیرا یہ میں اُن کا ذکر کیا تھا۔پس جبکہ پلید طبع دشمنوں نے ایسے پاک فطرت اور مقدس لوگوں کو شہوت پرست لوگ قرار دیا اور تزکیہ نفس سے محض خالی سمجھا تو اس سے ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ تزکیہ نفس کا مرتبہ دشمنوں پر ظاہر ہو کہ کا جانا کس قدر مشکل ہے چنانچہ آریہ لوگ خدا تعالیٰ کے تمام نبیوں کو محض مکار اور شہوت پرست قرار دیتے ہیں اور اُن کا دور مکر و فریب کا دور ٹھہراتے ہیں۔لیکن یہ تیسری علامت کہ الہام اور وحی کے ساتھ جو ایک قول ہے اس کے ساتھ خدا کا ایک فعل بھی ہو۔یہ