تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 164

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۴ سورة الشورى ہلاکت میں ڈالنا ہے۔اول۔وہ کلام قرآن شریف سے مخالف اور معارض نہ ہو مگر یہ علامت بغیر تیسری علامت کے جو ذیل میں لکھی جائے گی ناقص ہے بلکہ اگر تیسری علامت نہ ہو تو محض اس علامت سے کچھ بھی ثابت نہیں ہوسکتا۔دوم۔وہ کلام ایسے شخص پر نازل ہو جس کا تزکیہ نفس بخوبی ہو چکا ہو اور وہ اُن فانیوں کی جماعت میں داخل ہو جو بکلی جذبات نفسانیہ سے الگ ہو گئے ہیں اور اُن کے نفس پر ایک ایسی موت وارد ہو گئی ہے جس کے ذریعہ سے وہ خدا سے قریب اور شیطان سے دور جا پڑے ہیں کیونکہ جو شخص جس کے قریب ہے اُس کی آواز سنتا ہے پس جو شیطان کے قریب ہے وہ شیطان کی آواز سنتا ہے اور جو خدا سے قریب ہے وہ خدا کی آواز سنتا ہے اور انتہائی کوشش انسان کی تزکیہ نفس ہے اور اُس پر تمام سلوک ختم ہو جاتا ہے اور دوسرے لفظوں میں یہ ایک موت ہے جو تمام اندرونی آلائشوں کو جلا دیتی ہے۔پھر جب انسان اپنا سلوک ختم کر چکتا ہے تو تصرفات الہیہ کی نوبت آتی ہے تب خدا اپنے اس بندہ کو جو سلب جذبات نفسانیہ سے فنا کے درجہ تک پہنچ چکا ہے۔معرفت اور محبت کی زندگی سے دوبارہ زندہ کرتا ہے اور اپنے فوق العادت نشانوں سے عجائبات روحانیہ کی اُس کو سیر کراتا ہے اور محبت ذاتیہ کی وراء الوراء کشش اُس کے دل میں بھر دیتا ہے جس کو دنیا سمجھ نہیں سکتی اس حالت میں کہا جاتا ہے کہ اُس کو نئی حیات مل گئی جس کے بعد موت نہیں۔پس یہ نئی حیات کامل معرفت اور کامل محبت سے ملتی ہے اور کامل معرفت خدا کے فوق العادت نشانوں سے حاصل ہوتی ہے اور جب انسان اس حد تک پہنچ جاتا ہے تب اُس کو خدا کا سچا مکالمہ مخاطبہ نصیب ہوتا ہے۔مگر یہ علامت بھی بغیر تیسرے درجہ کی علامت کے قابل اطمینان نہیں کیونکہ کامل تزکیہ ایک امر پوشیدہ ہے اس لئے ہر ایک فضول گو ایسا دعویٰ کر سکتا ہے۔تیسری علامت ملہم صادق کی یہ ہے کہ جس کلام کو وہ خدا کی طرف منسوب کرتا ہے خدا کے متواتر افعال اُس پر گواہی دیں یعنی اس قدر اس کی تائید میں نشانات ظاہر ہوں کہ عقلِ سلیم اس بات کو متنع سمجھے کہ باوجود اس قدر نشانوں کے پھر بھی وہ خدا کا کلام نہیں اور یہ علامت در حقیقت تمام علامتوں سے بڑھ کر ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ایک کلام جو کسی کی زبان پر جاری ہو یا کسی نے بادعائے الہام پیش کیا ہو وہ اپنے معنوں کی رو سے قرآن شریف کے بیان سے مخالف نہ ہو بلکہ مطابق ہو مگر پھر بھی وہ کسی مفتری کا افترا ہو کیونکہ ایک عقلمند جو مسلمان ہے مگر مفتری ہے ضرور اس بات کا لحاظ رکھ لے گا کہ قرآن شریف کے مخالف کوئی کلام بدعوی الہام