تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 142
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۲ اسے محسوس کرتا ہے گویا کہ حواس خمسہ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنی باتیں اظہار کرتا ہے۔سورة الشورى البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخه یکم رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۱۴) کشف کیا ہے یہ رویا کا ایک اعلیٰ مقام اور مرتبہ ہے۔اس کی ابتدائی حالت کہ جس میں غیبت جس ہوتی ہے صرف اس کو خواب ( رؤیا) کہتے ہیں جسم بالکل معطل بر کار ہوتا ہے اور حواس کا ظاہری فعل بالکل ساکت ہوتا ہے لیکن کشف میں دوسرے حواس کی غیبت نہیں ہوتی۔بیداری کے عالم میں انسان وہ کچھ دیکھتا ہے جو کہ وہ نیند کی حالت میں جو اس کے معطل ہونے کے عالم میں دیکھتا تھا۔کشف اسے کہتے ہیں کہ انسان پر بیداری کے عالم میں ایک ایسی ربودگی طاری ہو کہ وہ سب کچھ جانتا بھی ہو اور حواس خمسہ اس کے کام بھی کر رہے ہوں اور ایک ایسی ہوا چلے کہ نئے حواس اُسے مل جاویں جن سے وہ عالم غیب کے نظارے دیکھ لے۔وہ حواس مختلف طور سے ملتے ہیں۔کبھی بھر میں کبھی شامہ سونگھنے میں کبھی سمع میں ، شامہ میں اس طرح جیسے کہ حضرت یوسف کے والد نے کہا لاَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلَا أَنْ تُفَضِّدُونِ ( یوسف : ۹۵) ( کہ مجھے یوسف کی خوشبو آتی ہے اگر تم یہ نہ کہو کہ بوڑھا بہک گیا) اس سے مراد وہی نئے حواس ہیں جو کہ یعقوب کو اس وقت حاصل ہوئے اور انہوں نے معلوم کیا کہ یوسف زندہ موجود ہے اور ملنے والا ہے۔اس خوشبو کو دوسرے پاس والے نہ سونگھ سکے کیونکہ اُن کو وہ حواس نہ ملے تھے جو کہ یعقوب کو ملے۔جیسے گڑسے شکر بنتی ہے اور شکر سے کھانڈ اور کھانڈ سے اور دوسری شیر بینیاں لطیف در لطیف بنتی ہیں۔ایسے ہی رؤیا کی حالت ترقی کرتی کرتی کشف کا رنگ اختیار کرتی ہے اور جب وہ بہت صفائی پر آ جاوے تو اس کا نام کشف ہوتا ہے۔لیکن وحی ایسی شئے ہے جو کہ اس سے بدر جہا بڑھ کر صاف ہے اور اس کے حاصل ہونے کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے۔کشف تو ایک ہندو کو بھی ہو سکتا ہے بلکہ ایک دہر یہ بھی جو خدا کو نہ مانتا ہو وہ بھی اس میں کچھ نہ کچھ کمال حاصل کر لیتا ہے۔لیکن وجی سوائے مسلمان کے دوسرے کو نہیں ہو سکتی۔یہ اسی اُمت کا حصہ ہے۔کیونکہ کشف تو ایک فطرتی خاصہ انسان کا ہے اور ریاضت سے یہ حاصل ہوسکتا ہے خواہ کوئی کرے کیونکہ فطرتی امر ہے جیسے جیسے کوئی اس میں مشق اور محنت کرے گا۔ویسے ویسے اس پر اس کی حالتیں طاری ہوں گی اور ہر ایک نیک و بد کو رؤیا کا ہونا اس امر پر دلیل ہے۔دیکھا ہوگا کہ سچی خوا ہیں بعض فاسق و فاجر لوگوں کو بھی آ جاتی ہیں۔پس جیسے اُن کو سچی خوابیں آتی ہیں ویسے ہی زیادہ مشق سے کشف بھی ان کو ہو سکتے ہیں۔حتی کہ حیوان بھی صاحب کشف ہو سکتا ہے لیکن الہام یعنی وحی الہی ایسی شے ہے کہ جب تک خدا سے