تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 141

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۱ سورة الشورى ضروری نہیں کہ خدا تعالی کی طرف سے الفاظ ہوں مگر اس جگہ ہماری مراد الہام سے وحی الہی ہے اور وحی اس کو کہتے ہیں کہ خدا کا کلام مع الفاظ کسی پر نازل ہو۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۷۴ حاشیہ ) وجی کی مثال اگر دنیا کی چیزوں میں سے کسی چیز کے ساتھ دی جائے تو شاید کسی قدر تار برقی سے مشابہہ ہے جو اپنے ہر یک تغیر کی آپ خبر دیتا ہے۔( بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۶) کلام اور الہام میں فرق یہ ہے کہ الہام کا چشمہ تو گویا ہر وقت مقرب لوگوں میں بہتا ہے اور وہ روح القدس کے بلائے بولتے اور روح القدس کے دکھائے دیکھتے اور روح القدس کے سنائے سنتے اور ان کے تمام ارادے روح القدس کے نفع سے ہی پیدا ہوتے ہیں اور یہ بات سچ اور بالکل سچ ہے کہ وہ ظلی طور پر اس آیت کا مصداق ہوتے ہیں وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى يُوحَى (النجم : ۵،۴) لیکن مکالمہ البیہ ایک الگ امر ہے اور وہ یہ ہے کہ وحی متلو کی طرح خدائے تعالیٰ کا کلام ان پر نازل ہوتا ہے اور وہ اپنے سوالات کا خدائے تعالیٰ سے ایسا جواب پاتے ہیں کہ جیسا ایک دوست دوست کو جواب دیتا ہے اور اس کلام کی اگر ہم تعریف کریں تو صرف اس قدر کر سکتے ہیں کہ وہ اللہ جل شانہ کی ایک تجلی خاص کا نام ہے جو بذریعہ اس کے مقرب فرشتہ کے ظہور میں آتی ہے اور اس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ تا دعا کے قبول ہونے سے اطلاع دی جائے یا کوئی نئی اور مخفی بات بتائی جائے یا آئندہ کی خبروں پر آگاہی دی جائے یا کسی امر میں خدائے تعالیٰ کی مرضی اور عدم مرضی پر مطلع کیا جائے یا کسی اور قسم کے واقعات میں یقین اور معرفت کے مرتبہ تک پہنچایا جائے۔بہر حال یہ وحی ایک الہی آواز ہے جو معرفت اور اطمینان سے رنگین کرنے کے لئے منجانب اللہ پیرایہ مکالمہ ومخاطبہ میں ظہور پذیر ہوتی ہے اور اس سے بڑھ کر اس کی کیفیت بیان کرنا غیر ممکن ہے کہ وہ صرف الہی تحریک اور ربانی نفخ سے بغیر کسی قسم کے فکر اور تدبر اور خوف اور غور اور اپنے نفس کے دخل کے خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک قدرتی ندا ہے جو لذیذ اور پر برکت الفاظ میں محسوس ہوتی ہے اور اپنے اندر ایک ربانی تجلی اور الہی صولت رکھتی ہے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۳۱ تا ۲۳۳) جب سماع کے ذریعہ سے کوئی خبر دی جاتی ہے تو اسے وحی کہتے ہیں اور جب رویت کے ذریعہ سے کچھ بتلا یا جاوے تو اسے کشف کہتے ہیں۔اس طرح میں نے دیکھا ہے کہ بعض وقت ایک ایسا امر ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تعلق صرف قوت شامہ سے ہوتا ہے مگر اس کا نام نہیں رکھ سکتے جیسے یوسف کی حضرت یعقوب کو خوشبو ہے آئی تھی اِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوْسُفَ لَوْلَا أَنْ تُفَتِّدُونِ ( يوسف : ۹۵) اور کبھی ایک امرایسا ہوتا ہے کہ جسم