تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 106
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام 1+4 سورة حم السجدة آیت اس سورۃ کی اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے۔گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چھٹے ہزار کی تاریکی آسمانی ہدایت کو چاہے گی اور انسانی سلیم فطرتیں خدا کی جناب سے ایک بادی کو طلب کریں گی یعنی مسیح موعود کو۔اور ضالین پر اس سورۃ کو ختم کیا ہے۔یعنی ساتویں آیت پر جو ضالین کے لفظ پر ختم ہوتی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضالین پر قیامت آئے گی۔(تحفہ گولر ویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۷۸ تا ۲۸۴ حاشیه ) وذلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِى ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدِيكُمْ فَاصْبَحْتُم مِنَ الْخَسِرِينَ۔انسان کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ پر بدظنی کرنے سے بچے کیونکہ اس کا انجام آخر میں تباہی ہوا کرتا ہے۔جیسے فرما یا اللہ تعالی نے وَ ذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدِيكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَسِرِينَ اس لئے سمجھنا چاہئیے کہ خدا تعالیٰ پر بدظنی کرنا اصل میں بے ایمانی کا بیج بونا ہے جس کا نتیجہ آخر کار ہلاکت ہوا کرتا ہے۔جب کبھی خدا تعالیٰ کسی کو اپنا رسول بنا کر بھیجتا ہے اور جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴ مورخه ۱۴/جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۳) وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوافِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ۔اور کافروں نے کہا کہ اس قرآن کو مت سنو اور جب تم کو سنایا جائے تو تم بک بک کرنے سے اس میں ایک شور ڈال دیا کرو شاید اسی طرح تم کو غلبہ ہو۔( براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۷ حاشیہ نمبر۱۱) کافروں نے یہ کہا کہ اس قرآن کو مت سنو اور جب تمہارے سامنے پڑھا جاوے تو تم شور ڈال دیا کروتا (براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۸۶) شاید اسی طرح غالب آ جاؤ۔فَلَنُذِيقَنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا عَذَابًا شَدِيدًا وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ اَسْوا الَّذِى كَانُوا اوردور يعملون سو ہم ان کو ایک سخت عذاب چکھائیں گے اور جیسے ان کے بڑے اور بدتر عمل ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ( براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۸ حاشیہ نمبر ۱۱) ملے گا۔