تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 105

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۵ سورة حم السجدة اور خدا کا یہ کہنا کہ سب چیزیں انسان کے لئے پیدا کی گئی ہیں ضرور ہمیں اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ ان چیزوں کے اندر خاص وہ تاثیرات ہیں جو انسانی زندگی اور انسانی تمدن پر اپنا اثر ڈالتی ہیں۔جیسا کہ متقدمین حکماء نے لکھا ہے کہ زمین ابتدا میں بہت ناہموار تھی خدا نے ستاروں کی تاثیرات کے ساتھ اس کو درست کیا ہے اور یہ ستارے جیسا کہ یہ جاہل لوگ سمجھتے ہیں آسمان دنیا پر ہی نہیں ہیں بلکہ بعض بعض سے بڑے بڑے بُعد پر واقع ہیں اسی آسمان میں مشتری نظر آتا ہے جو چھٹے آسمان پر ہے ایسا ہی زحل بھی دکھائی دیتا ہے جو ہفتم آسمان پر ہے اور اسی وجہ سے اس کا نام زُحل ہے جو اس کا بعد تمام ستاروں سے زیادہ ہے کیونکہ لغت میں زحل بہت دُور ہونے والے کو بھی کہتے ہیں۔اور آسمان سے مراد وہ طبقات لطیفہ ہیں جو بعض بعض سے اپنے خواص کے ساتھ متمیز ہیں۔یہ کہنا بھی جہالت ہے کہ آسمان کچھ چیز نہیں کیونکہ جہاں تک عالم بالا کی طرف سیر کی جائے محض خلا کا حصہ کسی جگہ نظر نہیں آئے گا۔پس کامل استقراء جو مجہولات کی اصلیت دریافت کرنے کے لئے اول درجہ پر ہے صریح اور صاف طور پر سمجھاتا ہے کہ محض خلا کسی جگہ نہیں ہے۔اور جیسا کہ پہلا آدم جمالی اور جلالی رنگ میں مشتری اور زحل کی دونوں تاثیریں لے کر پیدا ہوا اسی طرح وہ آدم جو ہزار ششم کے آخر میں پیدا ہوا وہ بھی یہ دونوں تاثیریں اپنے اندر رکھتا ہے۔اس کے پہلے قدم پر مردوں کا زندہ ہونا ہے اور دوسرے قدم پر زندوں کا مرنا ہے یعنی قیامت میں۔خدا نے اس کے وقت میں رحمت کی نشانیاں بھی رکھی ہیں اور قہر کی بھی تا دونوں رنگ جمالی اور جلالی ثابت ہو جا ئیں۔آخری زمانہ کی نسبت خدا تعالی کا یہ فرمانا کہ آفتاب اور ماہتاب ایک ہی وقت میں تاریک ہو جائیں گے زمین پر جا بجا خسف واقع ہوگا۔پہاڑ اڑائے جائیں گے۔یہ سب قہری اور جلالی نشانیاں ہیں۔عیسائیت کے غلبہ کے زمانہ کی نسبت بھی اسی قسم کے اشارات قرآن شریف میں پائے جاتے ہیں۔کیونکہ لکھا ہے کہ قریب ہے کہ اس دین کے غلبہ کے وقت آسمان پھٹ جائیں اور زمین میں بذریعہ خسف وغیرہ ہلاکتیں واقع ہوں۔غرض وجود آدم ثانی بھی جامع جلال و جمال ہے اور اسی وجہ سے آخر ہزار ششم میں پیدا کیا گیا اور ہزارششم کے حساب سے دنیا کے دنوں کا یہ جمعہ ہے اور جمعہ میں سے یہ عصر کا وقت ہے جس میں یہ آدم پیدا ہوا۔اور سورۃ فاتحہ میں اس مقام کے متعلق ایک لطیف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ چونکہ سورۃ فاتحہ ایک ایسی سورۃ ہے جس میں مبدء اور معاد کا ذکر ہے یعنی خدا کی ربوبیت سے لے کر یوم الدین تک سلسلہ صفات الہیہ کو پہنچایا ہے اس مناسبت کے لحاظ سے حکیم ازلی نے اس سورۃ کو سات آیتوں پر تقسیم کیا ہے تا دنیا کی عمر میں سات ہزار کی طرف اشارہ ہو۔اور چھٹی