تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 107

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۷ سورة حم السجدة إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ اَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ۔۔حدیثوں اور قرآن کریم سے ثابت ہے کہ جو شخص کامل انقطاع اور کامل توکل کا مرتبہ پیدا کر لیتا ہے تو فرشتے اس کے خادم کئے جاتے ہیں اور ہر یک فرشتہ اپنے منصب کے موافق اس کی خدمت کرتا ہے وَقَالَ اللهُ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ انشرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۷۶) جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ جل شانہ ہے پھر اپنی ثابت قدمی دکھلاتے ہیں کہ کسی مصیبت اور آفت اور زلزلہ اور امتحان سے اُن کے صدق میں ذرہ فرق نہیں آتا اُن پر فرشتے اُترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ تم ذرہ خوف نہ کرو اور نہ غمگین ہو اور اس بہشت کے تصور سے شادان اور فرحان رہو جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے ہم تمہارے متولی اور تمہارے پاس ہر وقت حاضر اور قریب ہیں کیا دُنیا میں اور کیا آخرت میں۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۸) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر استقامت اختیار کی ان کی یہ نشانی ہے کہ ان پر فرشتے اترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ تم مت ڈرو اور کچھ غم نہ کرو اور خوشخبری سنو اس بہشت کی جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا تھا ہم تمہارے دوست اور متولی اس دنیا کی زندگی میں ہیں اور نیز آخرت میں اور تمہارے لئے اس بہشت میں وہ سب کچھ دیا گیا جو تم مانگو یہ مہمانی ہے غفور رحیم سے۔اب دیکھئے اس آیت میں مکالمہ الہیہ اور قبولیت اور خدا تعالیٰ کا متولی اور متکفل ہونا اور اسی دنیا میں بہشتی زندگی کی بنا ڈالنا اور ان کا حامی اور نا صر ہونا بطور نشان کے بیان فرمایا گیا۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۴۶،۱۴۵) وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور باطل خداؤں سے الگ ہو گئے پھر استقامت اختیار کی یعنی طرح طرح کی آزمائشوں اور بلا کے وقت ثابت قدم رہے۔ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ تم مت ڈرو اور مت غمگین ہو اور خوش ہو اور خوشی میں بھر جاؤ کہ تم اس خوشی کے وارث ہو گئے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ہم اس دنیوی زندگی میں اور آخرت میں تمہارے دوست ہیں۔اس جگہ ان کلمات سے یہ اشارہ فرمایا کہ استقامت سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔یہ بیچ بات ہے کہ استقامت فوق الکرامت ہے۔کمال