تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xiv of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page xiv

صفحہ ۱۲۹ ۱۲۹ ۱۳۷ ۱۳۸ ۱۴۰ ۱۴۰ ۱۴۱ ۱۴۲ ۱۴۶ ۱۴۷ ۱۴۸ xiii مضمون قرآنی تعلیم یہ ہے کہ دیکھنا چاہیے کہ وہ محل اور موقع گناہ بخشنے کا ہے یا سزا دینے کا ہے وَجَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا یه اجمالی عبارت توسیع قانون کے لیے بیان فرمائی گئی ہے انتقام میں اسلام، یہود ونصاریٰ کی تعلیمات کا موازنہ انجیل کی تعلیم عفو تفریط کی طرف جھکی ہوئی ہے دوسری طرف توریت کی تعلیم انتقام افراط کی طرف جھکی ہوئی ہے کلام الہی کی تین قسمیں۔وحی ، رویا، کشف سواد اعظم علماء الہام کو وحی کا مترادف قرار دینے میں متفق ہیں الہام ایک القاء غیبی ہے کہ جس کا حصول کسی طرح کی سوچ اور تردد اور تفکر اور تدبیر پر موقوف نہیں ہوتا کلام اور الہام میں فرق صاحب کشف ایک دہر یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن صاحب وہی سوائے مسلمان کے دوسرا کوئی نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ نے وحی اور الہام کا مادہ ہر شخص میں رکھ دیا ہے ہر ایک وحی نبی منزل علیہ کی فطرت کے موافق نازل ہوتی ہے بعض اوقات بعض فقروں میں خدا تعالیٰ کی وحی انسانوں کی بنائی ہوئی صرفی نحوی قواعد کی بظاہر اتباع نہیں کرتی نمبر شمار ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ ۹۶ ۹۷ ۹۸ ۹۹ 1++ 1+1 ۱۰۲ ١٠٣