تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page xv
xiv نمبر شمار ۱۰۴ مضمون محض الہام جب تک اس کے ساتھ فعلی شہادت نہ ہو ہر گز کسی کام کا نہیں ۱۰۵ الہام کی ضرورت 1+4 میری جماعت میں اس قسم کے ملہم اس قدر ہیں کہ بعض کے الہامات کی ایک کتاب بنتی ہے ۱۰۷ یہ خیال مت کرو کہ خدا کی وحی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے ۱۰ ہر ایک ملہم من اللہ کو تبلیغ و اظہار کے لحاظ سے تین قسم کے الہام ہوتے ہیں 1+9 +11 III ١١٢ ۱۱۳ ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ وجی دو قسم کی ہے وحی الابتلاء اور وحی الاصطفاء الہام کشف یا رویا تین قسم کے ہوتے ہیں اول خدا کی طرف سے دوسرے حدیث النفس تیسرے شیطانی الہام خدا کی طرف سے نازل ہونے والے الہام کی تین علامتیں سچا الہام جو خالص خدا تعالی کی طرف سے ہوتا ہے اس کی دس علامتیں رحمانی الہام کی گیارہ نشانیاں سوال کا جواب کہ وحی کس طرح نازل ہوتی ہے یہ الزام کہ صحابہ کرام سے الہامات ثابت نہیں ہوتے بالکل بے جا اور غلط ہے اگر کل قول و فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وحی تھا تو پھر اجتہادی غلطی کیوں ہوئی کا جواب ۱۱۷ ہر ایک نبی کو جب تک وحی نہ ہو وہ کچھ نہیں کہہ سکتا ۱۱۸ قرآن کریم کی محکمات اور بینات علم ہے اور مخالف قرآن کے جو کچھ ہے وہ ظن ہے صفحہ ۱۵۲ ۱۵۸ ۱۵۹ 171 ۱۶۳ ۱۶۳ ۱۶۳ ۱۶۷ ۱۶۸ ۱۷۹ ۱۸۱ ۱۸۴ ۱۸۷