تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xiii of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page xiii

صفحہ 11۔۱۱۲ ۱۱۴ ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ ۱۱۸ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۵ ۱۲۷ xii استقامت سے کیا مراد ہے مضمون اسلام کی حقیت اور حقانیت کی اول نشانی یہی ہے کہ اس میں ہمیشہ ایسے راستباز جن سے خدا ہمکلام ہو پیدا ہوتے ہیں آیت نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ تكذیب میں ان نادانوں کی ہے جنہوں نے اس زندگی میں نزول ملائکہ سے انکار کیا نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ میں مہمانی کے لفظ سے اس پھل کی طرف اشارہ ہے جو آیت تُؤْتي أكُلَهَا كُل حِينٍ میں فرمایا گیا ہے جو لوگ اللہ کے دوست محب اور محبوب ہیں ان کی نشانیاں ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کیا تعلیم دیتی ہے اِعْمَلُوا مَا شِئْتُم کا مقام اور اس کے معنے وجودی ( وحدت وجود کا عقیدہ رکھنے والے ) نے جو قدم مارا ہے وہ حد ادب سے بڑھ کر ہے قیامت کی خبر سنا کی تعبیر میرے پر کھولا گیا کہ آیت موصوفہ و كَذلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لتُنذِرَ أُمَّ القُری عربی کے ام الالسنہ ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے خدا کی دو صفتیں ہیں ایک صفت تشبیبی ، دوسری صفت تنزیہی اللہ تعالیٰ نے اول ضرورت فرقان مجید کی نازل ہونے کی بیان کی پھر بطور توضیح جسمانی قانون کا حوالہ دیا نمبر شمار ۸۰ ΔΙ ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ۸۶ ۸۷ ٨٨ ۸۹ ۹۱