تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 104

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۴ سورة حم السجدة۔میں پیدا ہوا ہے۔اس جگہ ایک اور بات بیان کرنے کے لائق ہے کہ اگر یہ سوال ہو کہ جمعہ کی آخری گھڑی جو عصر کے وقت کی ہے جس میں آدم پیدا کیا گیا کیوں ایسی مبارک ہے اور کیوں آدم کی پیدائش کے لئے وہ خاص کی گئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے تاثیر کو اکب کا نظام ایسا رکھا ہے کہ ایک ستارہ اپنے عمل کے آخری حصہ میں دوسرے ستارے کا کچھ اثر لے لیتا ہے جو اس حصے سے ملحق ہو اور اس کے بعد میں آنے والا ہو۔اب چونکہ عصر کے وقت سے جب آدم پیدا کیا گیا رات قریب تھی لہذا وہ وقت زُحل کی تاثیر سے بھی کچھ حصہ رکھتا تھا اور مشتری سے بھی فیضیاب تھا جو جمالی رنگ کی تاثیرات اپنے اندر رکھتا ہے۔سوخدا نے آدم کو جمعہ کے دن عصر کے وقت بنایا کیونکہ اس کو منظور تھا کہ آدم کو جلال اور جمال کا جامع بنادے جیسا کہ اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ خَلَقْتُ بیدی (ص: ۷۶) یعنی آدم کو میں نے اپنے دونوں ہاتھ سے پیدا کیا ہے ظاہر ہے کہ خدا کے ہاتھ انسان کی طرح نہیں ہیں۔پس دونوں ہاتھ سے مراد جمالی اور جلالی تجلی ہے۔پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدم کو جلالی اور جمالی جلی کا جامع پیدا کیا گیا اور چونکہ اللہ تعالی علمی سلسلہ کو ضائع کرنا نہیں چاہتا اس لئے اُس نے آدم کی پیدائش کے وقت ان ستاروں کی تاثیرات سے بھی کام لیا ہے جن کو اس نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا۔اور یہ ستارے فقط زینت کے لئے نہیں ہیں جیسا عوام خیال کرتے ہیں بلکہ ان میں تاثیرات ہیں۔جیسا کہ آیت وَزَيَّنَا السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا سے یعنی حفظ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔یعنی نظام دنیا کی محافظت میں ان ستاروں کو دخل ہے اُسی قسم کا دخل جیسا کہ انسانی صحت میں دوا اور غذا کو ہوتا ہے جس کو الوہیت کے اقتدار میں کچھ دخل نہیں بلکہ جبروت ایزدی کے آگے یہ تمام چیزیں بطور مردہ ہیں۔یہ چیزیں بجز اذن الہی کچھ نہیں کر سکتیں۔ان کی تاثیرات خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔پس واقعی اور صحیح امر یہی ہے کہ ستاروں میں تاثیرات ہیں جن کا زمین پر اثر ہوتا ہے۔لہذا اس انسان سے زیادہ تر کوئی دنیا میں جاہل نہیں کہ جو بنفشہ اور نیلوفر اور تربد اور سقمونیا اور خیارشنبر کی تاثیرات کا تو قائل ہے مگر اُن ستاروں کی تاثیرات کا منکر ہے جو قدرت کے ہاتھ کے اول درجہ پر تحلی گاہ اور مظہر العجائب ہیں جن کی نسبت خود خدا تعالیٰ نے حفظا کا لفظ استعمال کیا ہے۔یہ لوگ جو سرا پا جہالت میں غرق ہیں اس علمی سلسلہ کو شرک میں داخل کرتے ہیں۔نہیں جانتے جو دنیا میں خدا تعالیٰ کا قانون قدرت یہی ہے جو کوئی چیز اس نے لغو اور بے فائدہ اور بے تاثیر پیدا نہیں کی جبکہ وہ فرماتا ہے کہ ہر ایک چیز انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے تو اب بتلاؤ کہ سماء الله نیا کو لاکھوں ستاروں سے پر کر دینا انسان کو اس سے کیا فائدہ ہے؟