تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 103
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۳ سورة حم السجدة سے فراغت پالیتا ہے تو پھر گویا اُس وقت اس کے آرام کا وقت ہوتا ہے سوا ایسی عبارتیں تو ریت میں بطور مجاز ہیں نہ یہ کہ در حقیقت خدا تعالیٰ تھک گیا اور بوجه خسته درماندہ ہونے کے اس کو آرام کرنا پڑا۔اور ان آیات کے متعلق ایک یہ بھی امر ہے کہ فرشتوں کا جناب انہی میں عرض کرنا کہ کیا تو ایک مفسد کو خلیفہ بنانے لگا ہے؟ اس کے کیا معنے ہیں؟ پس واضح ہو کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے چھٹے دن آسمانوں کے سات طبقے بنائے اور ہر ایک آسمان کے قضاء وقدر کا انتظام فرمایا اور چھٹا دن جوستارہ سعد اکبر کا دن ہے یعنی مشتری کا دن قریب الاختتام ہو گیا اور فرشتے جن کو حسب منطوق آيت و أولى في كُلِّ سَمَاء آمرها سعد و نحس کا علم دیا گیا تھا اور ان کو معلوم ہو چکا تھا کہ سعد اکبر مشتری ہے اور انہوں نے دیکھا کہ بظاہر اس دن کا حصہ آدم کو نہیں ملا کیونکہ دن میں سے بہت ہی تھوڑا وقت باقی ہے سو یہ خیال گزرا کہ اب پیدائش آدم کی زحل کے وقت میں ہوگی اس کی سرشت میں ڈھلی تاثیر میں جو قہر اور عذاب وغیرہ ہے رکھی جائیں گی اس لئے اس کا وجود بڑے فتنوں کا موجب ہوگا سو بناء اعتراض کی ایک فلنی امر تھا نہ یقینی۔اس لئے خلفی پیرا یہ میں انہوں نے انکار کیا اور عرض کیا کہ کیا تو ایسے شخص کو پیدا کرتا ہے جو مفسد اور خونریز ہو گا اور خیال کیا کہ ہم زاہد اور عابد اور تقدیس کرنے والے اور ہر ایک بدی سے پاک ہیں اور نیز ہماری پیدائش مشتری کے وقت میں ہے جو سعدا کبر ہے تب ان کو جواب ملا کہ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (البقرة : ۳۱) یعنی تمہیں خبر نہیں کہ میں آدم کو کس وقت بناؤں گا۔میں مشتری کے وقت کے اُس حصے میں اس کو بناؤں گا جو اُس دن کے تمام حصوں میں سے زیادہ مبارک ہے اور اگر چہ جمعہ کا دن سعد اکبر ہے لیکن اس کے عصر کے وقت کی گھڑی ہر ایک اس کی گھڑی سے سعادت اور برکت میں سبقت لے گئی ہے۔سو آدم جمعہ کی اخیر گھڑی میں بنایا گیا۔یعنی عصر کے وقت پیدا کیا گیا اسی وجہ سے احادیث میں ترغیب دی گئی ہے کہ جمعہ کی عصر اور مغرب کے درمیان بہت دعا کرو کہ اس میں ایک گھڑی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔یہ وہی گھڑی ہے جس کی فرشتوں کو بھی خبر بہ تھی۔اس گھڑی میں جو پیدا ہو وہ آسمان پر آدم کہلاتا ہے اور ایک بڑے سلسلہ کی اس سے بنیاد پڑتی ہے۔سو آدم اسی گھڑی میں پیدا کیا گیا۔اس لئے آدم ثانی یعنی اس عاجز کو یہی گھڑی عطا کی گئی۔اسی کی طرف براہین احمدیہ کے اس الہام میں اشارہ ہے کہ يَنْقَطِعُ ابَاؤُكَ وَيُبْدَه مِنك دیکھو برا این احمدیہ صفحہ ۴۹۰۔اور یہ اتفاقات عجیبہ میں سے ہے کہ یہ عاجز نہ صرف ہزار ششم کے آخری حصہ میں پیدا ہوا جو مشتری سے وہی تعلق رکھتا ہے جو آدم کا روز ششم یعنی اس کا آخری حصہ تعلق رکھتا تھا بلکہ یہ عاجز بروز جمعہ چاند کی چودھویں تاریخ