تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 91
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۱ سورة المؤمن لوگ ایسے موقع پر دھوکا کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دعا کیوں قبول نہیں ہوتی ان کا خیال ہے کہ خدا ہماری مٹھی میں ہے جب چاہیں گے منوالیویں گے بھلا امام حسین علیہ السلام پر جو ابتلا آیا تو کیا انہوں نے دعانہ مانگی ہوگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قدر بچے فوت ہوئے تو کیا آپ نے دعانہ کی ہوگی بات یہ ہے کہ یہ مقام صبر اور رضا کے تھے۔البدر جلد ۲ نمبر ۴۱، ۴۲ مورخه ۲۹/اکتوبر و ۸ نومبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۲۲،۳۲۱) تقویٰ کا مرحلہ بڑا مشکل ہے اسے وہی طے کر سکتا ہے جو بالکل خدا کی مرضی پر چلے جو وہ چاہے وہ کرے۔اپنی مرضی نہ کرے بناوٹ سے کوئی حاصل کرنا چاہے تو ہر گز نہ ہوگا۔اس لئے خدا کے فضل کی ضرورت ہے اور وہ اسی طرح سے ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو دعا کرے اور ایک طرف کوشش کرتا رہے خدا تعالیٰ نے دعا اور کوشش دونوں کی تاکید فرمائی ہے۔اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ میں تو دعا کی تاکید فرمائی ہے اور وَالَّذِینَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت : ۷۰) میں کوشش کی۔وو البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورخه ۸ /جنوری ۱۹۰۴ء صفحه ۳) دوستی کا اصول یہ ہے کہ کبھی اپنی اس سے منوائے اور کبھی اس کی آپ مانے اور یہی طریق خدا نے بھی بتلایا ہے۔ایک جگہ تو فرماتا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ کہ تم مانگو تو میں دوں گا یعنی تمہاری بات مانوں گا اور دوسری جگہ اپنی منواتا ہے اور فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ الخ۔البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورخه ۸/جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۵) اس میں شک نہیں ہے کہ انسان بعض اوقات تدبیر سے فائدہ اٹھا تا ہے لیکن تدبیر پر گھی بھروسہ کر ناسخت نادانی اور جہالت ہے جب تک تدبیر کے ساتھ دعا نہ ہو کچھ نہیں اور دعا کے ساتھ تد بیر نہ ہو تو کچھ فائدہ نہیں۔جس کھڑکی کی راہ سے معصیت آتی ہے پہلے ضروری ہے کہ اس کھڑکی کو بند کیا جاوے پھر نفس کی کشاکش کے لیے دعا کرتا رہے۔اسی کے واسطے کہا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت : ٧٠) اس میں کس قدر ہدایت تدابیر کو عمل میں لانے کے واسطے کی گئی ہیں تدابیر میں بھی خدا کو نہ چھوڑے دوسری طرف فرماتا ہے اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ۔پس اگر انسان پورے تقویٰ کا طالب ہے تو تد بیر کرے اور دعا کرے۔دونوں کو جو بجالانے کا حق ہے بجالائے تو ایسی حالت میں خدا اس پر رحم کرے گا لیکن اگر ایک کرے گا اور دوسری کو چھوڑ دے گا تو محروم رہے گا۔الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۷ ) جَاهَدُوا فینا کے یہی معنے ہیں کہ حصول تقویٰ کے لئے حتی الوسع تدابیر کو کام میں لاوے اور پھر دوسری