تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 90

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۰ سورة المؤمن اور اس کی دعا کو قبول فرماتا ہے اور دوسری جگہ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا في الآية اور وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔بعض لوگ اللہ تعالیٰ پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ہماری دعا کو قبول نہیں کرتا یا اولیاء لوگوں پر طعن کرتے ہیں کہ ان کی فلاں دعا قبول نہیں ہوئی۔اصل میں وہ نا دان اس قانون الہی سے نا آشنا محض ہوتے ہیں جس انسان کو خدا سے ایسا معاملہ پڑا ہو گا وہ خوب اس قاعدہ سے آگاہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے مان لینے کے اور منوانے کے دو نمونے پیش کئے ہیں۔انہی کو مان لینا ایمان ہے تم ایسے نہ بنو کہ ایک ہی پہلو پر زور دو۔ایسا نہ ہو کہ تم خدا کی مخالفت کر کے اس کے مقررہ قانون کو توڑنے کی کوشش کرنے والے بنو۔الحکم جلد نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۱۲) جس حالت میں اب اسلام ہے اس کا علاج اب سوائے دعا کے اور کیا ہوسکتا ہے۔لوگ جہاد جہاد کہتے ہیں مگر اس وقت تو جہاد حرام ہے۔اس لئے خدا نے مجھے دُعاؤں میں وہ جوش دیا ہے۔جیسے سمندر میں ایک جوش ہوتا ہے چونکہ توحید کے لئے دُعا کا جوش دل میں ڈالا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ارادہ الہی بھی یہی ہے جیسا کہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَکھ اس کا وعدہ ہے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۳ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۸۱) لَكُمْ ہر ایک شے کی ایک اُم ہوتی ہے میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ کے جو انعامات ہیں ان کی اُم کیا ہے؟ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ ان کی اُمّ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُھ ہے کوئی انسان بدی سے بچ نہیں سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو پس ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ فرما کر یہ جتلا دیا کہ عاصم وہی ہے اس کی طرف تم ہوپس البدر جلد ۲ نمبر ۲۲ مورخه ۱۹ جون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۶۹) رجوع کرو۔انسان کو چاہیے کہ اپنے عیبوں کو شمار کرے اور دُعا کرے پھر اللہ تعالیٰ بچاوے تو بیچ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مجھ سے دُعا کرو میں مانوں گا۔اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۸ مورخه ۳۱ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۱۷) اس سے بڑھ کر انسان کے لیے فخر نہیں کہ وہ خدا کا ہو کر رہے جو اس سے تعلق رکھتے ہیں وہ ان سے مساوات بنالیتا ہے۔کبھی ان کی مانتا ہے اور کبھی اپنی منواتا ہے ایک طرف فرماتا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم دوسری طرف فرماتا ہے وَلَنَبْلُونَكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَونِ (البقرة :۱۵۲) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک مقام دعا کا نہیں ہوتا۔نَبْلُوَنَّكُمْ کے موقع پر اِنَّا لِلَّهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رُجِعُونَ کہنا پڑے گا۔یہ مقام صبر اور رضا کے ہوتے ہیں