تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 92

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۲ سورة المؤمن جگہ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لکھ کہ کر بتلادیا کہ جب تدابیر کر چکو تو پھر خدا سے دعا مانگو وہ قبول ہوگی۔البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۳) کامل ایمان ہو تو دُعائیں بھی قبول ہوتی ہیں اور اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُم خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو خلاف نہیں ہوتا۔الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخہ ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۷) انسان اپنی شتاب کاری اور جلد بازی کی وجہ سے محروم ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ بالکل سچا ہے ادْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ۔پس تم اس مانگو اور پھر مانگو اور پھر مانگو۔جو مانگتے ہیں ان کو دیا جاتا ہے ہاں یہ ضروری ہے کہ دُعا ہوتری بک بک نہ ہو اور زبان کی لاف زنی اور چرب زبانی ہی نہ ہو۔ایسے لوگ جنہوں نے دُعا کے لیے استقامت اور استقلال سے کام نہیں لیا اور آداب دعا کو ملحوظ نہیں رکھا جب ان کو کچھ ہاتھ نہ آیا تو آخر وہ دعا اور اس کے اثر سے منکر ہو گئے اور پھر رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ سے بھی منکر ہو بیٹھے کہ اگر خدا ہوتا تو ہماری دعا کو کیوں نہ سنتا۔ان احمقوں کو اتنا معلوم نہیں کہ خدا تو ہے مگر تمہاری دعائیں بھی دعائیں ہوتیں، پنجابی زبان میں ایک ضرب المثل ہے جو دُعا کے مضمون کو خوب ادا کرتی ہے اور وہ یہ ہے جو منگے سوئر رہے مرے سومنگن جا یعنی جو مانگنا چاہتا ہے اس کو ضروری ہے کہ ایک موت اپنے اوپر وار دکرے اور مانگنے کا حق اسی کا ہے جو اول اس موت کو حاصل کر لے حقیقت میں اسی موت کے نیچے دعا کی حقیقت ہے۔اصل بات یہ ہے کہ دعا کے اندر قبولیت کا اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ انتہائی درجہ کے اضطرار تک پہنچ جاتی ہے۔جب انتہائی درجہ اضطرار کا پیدا ہو جاتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی قبولیت کے آثار اور سامان بھی پیدا ہو جاتے ہیں پہلے سامان آسمان پر کئے جاتے ہیں اس کے بعد وہ زمین پر اثر دکھاتے ہیں یہ چھوٹی سی بات نہیں بلکہ ایک عظیم الشان حقیقت ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جس کو خدائی کا جلوہ دیکھنا ہواسے چاہیئے کہ دعا کرے۔انتقام جلد ۸ نمبر ۱۳ مورخہ ۷ اسرا پریل ۱۹۰۴ صفحه ۶ ) ان آنکھوں سے وہ نظر نہیں آتا بلکہ دعا کی آنکھوں سے نظر آتا ہے کیونکہ اگر دعا کے قبول کرنے والے کا پتہ نہ لگے تو جیسے لکڑی کو گھن لگ کر وہ نکمی ہو جاتی ہے ویسے ہی انسان پکار پکار کر تھک کر آخر د ہر یہ ہوجاتا ہے ایسی دعا چاہیئے کہ اس کے ذریعہ ثابت ہو جاوے کہ اس کی ہستی برحق ہے جب اس کو یہ پتہ لگ جاوے گا تو اس وقت وہ اصل میں صاف ہو گا۔یہ بات اگر چہ بہت مشکل نظر آتی ہے لیکن اصل میں مشکل بھی نہیں ہے