تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 79
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۹ سورة المؤمن : چلا آیا ہے اور نبیوں کے ہاتھ میں بجز دُعا کے اور کیا تھا۔( برکات الدعا، روحانی خزائن جلد نمبر ۶ صفحه ۹ تا ۱۵) چوتھا وسیلہ خدا تعالیٰ نے اصل مقصود کو پانے کے لئے دعا کو ٹھہرایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ یعنی تم دعا کرو میں قبول کروں گا اور بار بار دعا کے لئے رغبت دلائی ہے تا انسان اپنی طاقت سے نہیں بلکہ خدا کی طاقت سے پاوے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۸) تجربہ گواہی دے رہا ہے کہ جس جگہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ اتفاق ہو جائے کہ ہمہ شرائط دعا ظہور میں آوے وہ کام ضرور ہو جاتا ہے۔اس کی طرف قرآن شریف کی یہ آیت اشارہ فرما رہی ہے ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لکھ یعنی تم میرے حضور میں دعا کرتے رہو آخر میں قبول کرلوں گا۔تعجب کہ جس حالت میں باوجود قضا و قدر کے مسئلہ پر یقین رکھنے کے تمام لوگ بیماریوں میں ڈاکٹروں کی طرف رجوع کرتے ہیں تو پھر دعا کا بھی کیوں دوا پر قیاس نہیں کرتے۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۳۲ حاشیه ) دُعا اور استجابت میں ایک رشتہ ہے کہ ابتدا سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا برابر چلا آتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کا ارادہ کسی بات کے کرنے کے لئے توجہ فرماتا ہے تو سنت اللہ یہ ہے کہ اُس کا کوئی مخلص بندہ اضطرار اور کرب اور قلق کے ساتھ دُعا کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنی تمام ہمت اور تمام توجہ اس امر کے ہو جانے کے لئے مصروف کرتا ہے۔تب اُس مرد فانی کی دُعائیں فیوض الہی کو آسمان سے کھینچتی ہیں اور خدا تعالیٰ ایسے نئے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن سے کام بن جائے۔یہ دُعا اگر چہ بعالم ظاہر انسان کے ہاتھوں سے ہوتی ہے مگر در حقیقت وہ انسان خدا میں فانی ہوتا ہے اور دُعا کرنے کے وقت میں حضرت احدیت وجلال میں ایسے فنا کے قدم سے آتا ہے کہ اُس وقت وہ ہاتھ اُس کا ہاتھ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے۔یہی دُعا ہے جس سے خدا پہچانا جاتا ہے اور اُس ذو الجلال کی ہستی کا پتہ لگتا ہے جو ہزاروں پردوں میں مخفی ہے۔دُعا کرنے والوں کے لئے آسمان زمین سے نزدیک آ جاتا ہے اور دُعا قبول ہو کر مشکل کشائی کے لئے نئے اسباب پیدا کئے جاتے ہیں اور اُن کا علم پیش از وقت دیا جاتا ہے اور کم سے کم یہ کہ میخ آہنی کی طرح قبولیت دُعا کا یقین غیب سے دل میں بیٹھ جاتا ہے۔سچ یہی ہے کہ اگر یہ دُعا نہ ہوتی تو کوئی انسان خداشناسی کے بارے میں حق الیقین تک نہ پہنچ سکتا۔دُعا سے الہام ملتا ہے۔دُعا سے ہم خدا تعالیٰ کے ساتھ کلام کرتے ہیں۔جب انسان اخلاص اور توحید اور محبت اور صدق اور صفا کے قدم سے دُعا کرتا کرتا فنا کی حالت تک پہنچ جاتا ہے تب وہ زندہ خدا اُس پر ظاہر ہوتا ہے جو لوگوں سے پوشیدہ ہے دُعا کی ضرورت نہ صرف اس وجہ سے