تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 80

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۰ سورة المؤمن ہے کہ ہم اپنے دنیوی مطالب کو پاویں بلکہ کوئی انسان بغیر ان قدرتی نشانوں کے ظاہر ہونے کے جو دُعا کے بعد ظاہر ہوتے ہیں اُس بچے ذوالجلال خدا کو پاہی نہیں سکتا جس سے بہت سے دل دور پڑے ہوئے ہیں۔نادان خیال کرتا ہے کہ دعا ایک لغو اور بیہودہ امر ہے مگر اُسے معلوم نہیں کہ صرف ایک دُعا ہی ہے جس سے خداوند ذوالجلال ڈھونڈنے والوں پر تجلی کرتا اور آنا القادر کا الہام اُن کے دلوں پر ڈالتا ہے۔ہر ایک یقین کا بھوکا اور پیاسا یا در کھے کہ اس زندگی میں رُوحانی روشنی کے طالب کے لئے صرف دعا ہی ایک ذریعہ ہے جو خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین بخشا اور تمام شکوک و شبہات دور کر دیتا ہے۔کیونکہ جو مقاصد بغیر دعا کے کسی کو حاصل ہوں وہ نہیں جانتا کہ کیوں کر اور کہاں سے اس کو حاصل ہوئے۔بلکہ صرف تدبیروں پر زور مارنے والا اور دعا سے غافل رہنے والا یہ خیال نہیں کر سکتا کہ یقیناً و حقا خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے اُس کے مقاصد کو اس کے دامن میں ڈالا ہے یہی وجہ ہے کہ جو شخص دُعا کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر کسی کامیابی کی بشارت دیا جاتا ہے وہ اس کام کے ہو جانے پر خدا تعالیٰ کی شناخت اور معرفت اور محبت میں آگے قدم بڑھاتا ہے اور اس قبولیت دُعا کو اپنے حق میں ایک عظیم الشان نشان دیکھتا ہے اور اسی طرح وقتا فوقتا یقین سے پر ہو کر جذباتِ نفسانی اور ہر ایک قسم کے گناہ سے ایسا مجتنب ہو جاتا ہے کہ گویا صرف ایک رُوح رہ جاتا ہے۔لیکن جو شخص دُعا کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کے رحمت آمیز نشانوں کو نہیں دیکھتا وہ باوجود تمام عمر کی کامیابیوں اور بے شمار دولت اور مال اور اسباب تنم کے دولت حق الیقین سے بے بہرہ ہوتا ہے اور وہ کامیابیاں اس کے دل پر کوئی نیک اثر نہیں ڈالتیں بلکہ جیسے جیسے دولت اور اقبال پاتا ہے غرور اور تکبر میں بڑھتا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ پر اگر اس کو کچھ ایمان بھی ہو تو ایسا مردہ ایمان ہوتا ہے جو اُس کو نفسانی جذبات سے روک نہیں سکتا اور حقیقی پاکیزگی بخش نہیں سکتا۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۰،۲۳۹) مقبولوں کی اوّل علامت مستجاب الدعوات ہونا ہے خاص کر اس حالت میں جب کہ اُن کا درددل نہایت تک پہنچ جائے پھر اس بات کو سوچیں کہ کیوں کر ممکن ہے کہ باوجود یکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے مارے غم کے بے جان اور نا تو ان ہو کر ایک باغ میں جو پھل لانے کی جگہ ہے بکمال در دساری رات دعا کی اور کہا کہ اے میرے باپ اگر ممکن ہو تو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دیا جائے مگر پھر بھی با ایں ہمہ سوز و گداز اپنی دعا کا پھل دیکھنے سے نامرادر ہا۔یہ بات عارفوں اور ایمانداروں کے نزدیک ایسی جھوٹ ہے جیسا کہ دن کو کہا جائے کہ رات ہے یا اُجالے کو کہا جائے کہ اندھیرا ہے یا چشمہ شیریں کو کہا جائے کہ تلخ اور شور ہے۔جس دعا میں رات