تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 78

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۸ سورة المؤمن میں لفظ اُدْعُو سے عام طور پر دُعا ہی مُراد ہے تو ہم اس بات کے ماننے سے چارہ نہیں دیکھتے کہ یہاں دُعا سے وہ دُعا مراد ہے جو جمیع شرائط ہو۔اور تمام شرائط کو جمع کر لینا انسان کے اختیار میں نہیں جب تک توفیق ازلی یا ور نہ ہو اور یہ بھی یادر ہے کہ دُعا کرنے میں صرف تضرع کافی نہیں ہے۔بلکہ تقویٰ اور طہارت اور راست گوئی اور کامل یقین اور کامل محبت اور کامل توجہ اور یہ کہ جو شخص اپنے لئے دُعا کرتا ہے یا جس کے لئے دُعا کی گئی ہے اُس کی دنیا اور آخرت کے لئے اس بات کا حاصل ہونا خلاف مصلحت الہی بھی نہ ہو۔کیونکہ بسا اوقات دُعا میں اور شرائط تو سب جمع ہو جاتے ہیں۔مگر جس چیز کو مانگا گیا ہے وہ عند اللہ سائل کے لئے خلاف مصلحت الہی ہوتی ہے۔اور اس کے پورے کرنے میں خیر نہیں ہوتی۔مثلاً اگر کسی ماں کا پیارا بچہ بہت الحاج اور رونے سے یہ چاہے کہ وہ آگ کا ٹکڑا یا سانپ کا بچہ اس کے ہاتھ میں پکڑا دے۔یا ایک زہر جو بظاہر خوبصورت معلوم ہوتی ہے اس کو کھلا دے تو یہ سوال اس بچہ کا ہر گز اُس کی ماں پورا نہیں کرے گی۔اور اگر پورا کر دیوے اور اتفاقاً بچہ کی جان بچ جاوے لیکن کوئی عضو اس کا بے کار ہو جاوے تو بلوغ کے بعد وہ بچہ اپنی اس احمق والدہ کا سخت شا کی ہوگا اور بجز اس کے اور بھی کئی شرائط ہیں کہ جب تک وہ تمام جمع نہ ہوں اُسوقت تک دُعا کو دُعا نہیں کہہ سکتے۔اور جب تک کسی دُعا میں پوری روحانیت داخل نہ ہو اور جس کے لئے دعا کی گئی ہے اور جو دُعا کرتا ہے ان میں استعداد قریبہ پیدا نہ ہو تب تک توقع اثر دعا امید موہوم ہے۔اور جب تک ارادہ الہی قبولیت دُعا کے متعلق نہیں ہوتا تب تک یہ تمام شرائط جمع نہیں ہوتیں۔اور ہمتیں پوری توجہ سے قاصر رہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔بلاشبہ ایک مومن کی دُعائیں اپنے اندر اثر رکھتی ہیں اور آفات کے دُور ہونے اور مرادات کے حاصل ہونے کا موجب ہو جاتی ہیں کیونکہ اگر موجب نہیں ہوسکتیں تو پھر کیا وجہ کہ قیامت میں موجب ہو جائیں گی۔سوچو اور خوب سوچو کہ اگر در حقیقت دُعا ایک بے تاثیر چیز تا ہے اور دنیا میں کسی آفت کے دور ہونے کا موجب نہیں ہو سکتی تو کیا وجہ کہ قیامت کو موجب ہو جائے گی ؟ یہ بات تو نہایت صاف ہے کہ اگر ہماری دعاؤں میں آفات سے بچنے کے لئے درحقیت کوئی تاثیر ہے تو وہ تا ثیر اس دُنیا میں بھی ظاہر ہونی چاہئے تا ہمارا یقین بڑھے اور امید بڑھے اور تا آخرت کی نجات کے لئے ہم زیادہ سرگرمی سے دُعائیں کریں۔اور اگر در حقیقت دُعا کچھ چیز نہیں صرف پیشانی کا نوشتہ پیش آنا ہے تو جیسا دنیا کی آفات کے لئے۔۔۔۔۔د عا عبث ہے اسی طرح آخرت کے لئے بھی عبث ہوگی اور اس پر امید رکھنا طمع خام۔۔۔۔۔۔دعا منجملہ اسباب عادیہ کے ہے۔جس پر ایک لاکھ سے زیادہ نبی اور کئی کروڑ ولی گواہی دیتا