تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 69
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٦٩ سورة المؤمن کی قوم کے لئے ہوا۔ غرض خدا کے نام پر جو پیشگوئی پوری ہو جائے اس کی نسبت شک کرنا اور اس کو اتفاق پر محمول کر دینا گویا خدا تعالیٰ کے دینی انتظام پر ایک حملہ ہے اور نبوت کی تمام عمارت کو گرانے کا ارادہ ہے۔ ( استفتاء ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۱۱۲) اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اس پر پڑے گا اور اگر یہ سچا ہے تو تم اس کی ان بعض پیشگوئیوں سے بچ نہیں سکتے جو تمہاری نسبت وہ وعدہ کرے۔ خدا ایسے شخص کو فتح اور کامیابی کی راہ نہیں دکھلاتا جو فضول گو اور کذاب ہو۔ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ا ا صفحه ۶۴ ) اگر یہ نبی جھوٹا ہے تو اپنے جھوٹ سے ہلاک ہو جائے گا اور اگر سچا ہے تو ضرور ہے کہ کچھ عذاب تم بھی چکھو کیونکہ زیادتی کرنے والے خواہ افترا کریں خواہ تکذیب کریں خدا سے مدد نہیں پائیں گے۔ اب دیکھو اس سے زیادہ تصریح کیا ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں بار بار فرماتا ہے کہ مفتری اسی دنیا میں ہلاک ہو گا بلکہ خدا کے سچے نبیوں اور مامورین کے لئے سب سے پہلی یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے کام کی تکمیل کر کے مرتے ہیں ۔ اور ان کو اشاعت دین کے لئے مہلت دی جاتی ہے۔ اربعین ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۳۴) اگر یہ جھوٹا ہوگا تو تمہارے دیکھتے دیکھتے تباہ ہو جائے گا اور اس کا جھوٹ ہی اس کو ہلاک کر دے گا لیکن اگر سچا ہے تو پھر بعض تم میں سے اس کی پیشگوئیوں کا نشانہ بنیں گے اور اس کے دیکھتے دیکھتے اس دارالفنا سے کوچ کریں گے۔ ( تحفة الندوه ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۹۶) قرآن شریف نے بعض کے لفظ سے جتلا دیا کہ وعید کی پیشگوئی کے لئے بعض کا نمونہ کافی ہے۔ (تحفۃ الندوه، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۹۸) اگر یہ رسول سچا ہے تو اس کی بعض پیشگوئیاں جو تمہارے حق میں ہیں پوری ہوں گی یعنی پیشگوئی کا پورا ہونا سچائی کی نشانی ہے۔ نشان آسمانی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۹۴ حاشیه ) اگر یہ رسول جھوٹا ہے تو خود تباہ ہو جائے گا لیکن اگر سچا ہے تو تمہاری نسبت جو عذاب کئے گئے ہیں وہ پورے ہوں گے۔ کے بعض وعدے (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه (۱۶۰) بعض کا لفظ اس لئے اختیار کیا گیا کہ وعید کی پیشگوئیوں میں یہ ضروری نہیں کہ وہ سب کی سب پوری ہو جائیں بلکہ بعض کا انجام معافی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۶۰ حاشیه ) اگر یہ نبی جھوٹا ہے تو خود تباہ ہو جائے گا کیونکہ خدا کذاب کے کام کو انجام تک نہیں پہنچا تا وجہ یہ کہ اس