تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 70

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المؤمن سے صادق اور کاذب کا معاملہ باہم مشتبہ ہو جائے گا۔اور اگر یہ رسول سچا ہے تو اس کی بعض وعید کی پیشگوئیاں ضرور وقوع میں آئیں گی۔پس اس آیت میں جو بعض کا لفظ ہے صریح طور پر اس میں یہ اشارہ ہے کہ سچا رسول جو وعید کی پیشگوئیاں یعنی عذاب کی پیشگوئیاں کرتا ہے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ سب کی سب ظہور میں ', آجا ئیں ہاں یہ ضروری ہے کہ بعض اُن میں سے ظہور میں آجائیں جیسا کہ یہ آیت فرما رہی ہے يُصبكم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ - (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۹۷) یہ مسئلہ مسلم ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیشگوئیوں میں کسی شرط کی بھی ضرورت نہیں وہ ٹل سکتی ہیں کیونکہ وہ مجرم کے لئے ایک عذاب دینے کا وعدہ ہے اور خدا حقیقی بادشاہ ہے وہ کسی کی تو بہ اور استغفار سے اپنے عذاب کو معاف کر سکتا ہے جیسا کہ یونس نبی کی قوم کو معاف کر دیا اسی پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے جیسا کہ اللہ تعالی ورود آپ فرماتا ہے وَ اِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُه وَ إِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ یعنی اگر یہ نبی جھوٹا ہے تو جھوٹ بولنے کا عذاب اس پر نازل ہوگا اور اگر سچا ہے تو بعض عذاب جن کا وہ وعدہ دیتا ہے تم پر وارد ہو جا ئیں گے۔اب دیکھو خدا نے بعض کا لفظ اس جگہ استعمال کیا نہ کل کا جس کے یہ معنی ہیں کہ جس قدر عذاب کی اس نبی نے پیشگوئیاں کی ہیں اُن میں بعض تو ضرور پوری ہو جائیں گی۔گو بعض معرض التوا میں رہ جائیں گی۔پس نص قرآنی سے یہ ثابت ہے کہ عذاب کی پیشگوئی کا پورا ہونا ضروری نہیں ہاں اس آیت سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ مفتری کسی طرح عذاب سے بچ نہیں سکتا۔کیونکہ اس کے لئے یہ قطعی حکم ہے کہ وَ إِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ گز به پس اگر مفتری کے لئے کوئی عذاب کی پیشگوئی ہو تو وہ ٹل نہیں سکتی۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۶۸،۵۶۷) اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَ إِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ ۚ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبُكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُم یعنی اگر یہ نبی کا ذب ہے تو خود تباہ ہو جائے گا اور اگر صادق ہے تو بعض پیشگوئیاں وعید کی اس کی تم پر پوری ہو جائیں گی اس جگہ یہ نہیں فرمایا کہ کل پوری ہو جائیں گی۔پس اس جگہ صاف طور پر خدا نے فرما دیا ہے کہ وعید کی تمام پیشگوئیوں کا پورا ہونا ضروری نہیں بلکہ بعض مل بھی سکتی ہیں اور اگر ایسا ارادہ نہ ہوتا تو خدا تعالیٰ یہ فرما تا وَ إِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبُكُمْ كُلُّ الَّذِي يَعِدُكُمْ مگر ایسا نہیں فرمایا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰۳ حاشیه )