تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 65
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۵ سورة المؤمنون اَنْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ ۔ میں نے ایک انڈے کو ایک دفعہ پیالی میں ڈالا ۔ دیکھا تو اس کی زردی اور سفیدی پانی کی طرح ہوئی ہوئی تھی اور اس کے درمیان میں ایک نقطہ خون کا خشخاس کے دانہ کی طرح تھا اور اس کی کئی تاریں کوئی کسی طرف کو اور کوئی کسی طرف کو نکلی ہوئی تھیں اور سوائے اس نقطہ کے اور کوئی حرکت اس میں نہ تھی تو میں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ خلق اشیاء کا سلسلہ ایسا نہیں معلوم ہوتا کہ اول سر بنا یا پھر ہاتھ پھر پاؤں وغیرہ بلکہ اس کی کارروائی یکساں ہوتی ہے اور سب کچھ پہلے ہی سے ہوتا ہے صرف نشو و نما پاتا جاتا ہے۔ میں نے بعض دائیوں کو کہا ہوا تھا کہ جو بچے اسقاط ہوا کریں تو دکھا یا کرو تو میں نے بعض بچے دیکھے ان کے بھی سب اعضاء وغیرہ بنے بنائے تھے۔ خدا کا یہ خلق معمار کی طرح نہیں ہوتا کہ اول دیواریں بنائیں پھر چوبارہ بنایا پھر او پر کچھ اور بنایا بلکہ چار ماہ کے بعد جب روح کی تکمیل ہوتی ہے تو اس وقت انْشَانُهُ خَلْقًا أَخَرَ اس پر صادق آتا ہے تو بچہ حرکت کرنے لگتا ہے۔ جیسے دنیا کے سات دن ہیں ۔ یہ اشارہ اسی طرف ہے کہ دنیا کی عمر بھی سات ہزار برس ہے اور یہ کہ خدا نے دنیا کو چھ دن میں بنا کر ساتویں دن آرام کیا۔ اس سے یہ بھی نکلتا ہے کہ ہر ایک شے چھ مراتب ہی طے کر کے مرتبہ تکمیل کا حاصل کرتی ہے۔ نطفہ میں بھی اسی طرح چھ مراتب ہیں کہ انسان اول سلسلہ میں طین ہوتا۔ پھر نطفہ ۔ پھر عَلَقَه - پھر مُضْغَه - پھر عِظَامًا ۔ پھر لحم ۔ پھر سب کے بعد اَنْشَانُهُ خَلْقًا أَخَرَ اور اس - سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ باہر سے کچھ نہیں آتا بلکہ اندر ہی سے ہر ایک شے نشو و نما ہوتی رہتی ہے۔ البدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۴، ۸۵ ) روح ایک مخلوق چیز ہے۔ اسی عنصری مادے سے خدا تعالیٰ اسے بھی پیدا کرتا ہے ۔۔۔ روح انسانی باریک اور مخفی طور سے نطفہ انسانی میں ہی موجود ہوتی ہے اور وہ بھی نطفہ کے ساتھ ساتھ ہی آہستگی سے نشو و نما کرتی اور ترقی پاتی پاتی چوتھے مہینے کے انجام اور پانچویں مہینے کی ابتداء میں ایک بین تغییر اور نشو و نما پا کر ظہور پذیر ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنی کلام پاک میں فرماتا ہے کہ ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ ۔ (الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۵ مورخه ۳۰ رمئی ۱۹۰۸ صفحه ۶،۵ ) وہ اندرونی نور جو روح القدس سے تعبیر کیا گیا ہے وہ عبودیت خالصہ نامہ اور ربوبیت کاملہ مستجمعہ کے پورے جوڑ و اتصال سے بطرز ثُمَّ انْشَانُهُ خَلْقًا آخَرَ کے پیدا ہوتا ہے اور یہ ربوبیت ثانیہ ہے جس سے متقی تولد ثانی پاتا ہے اور ملکوتی مقام پر پہنچتا ہے اور اس کے بعد ربوبیت ثالثہ کا درجہ ہے جو خلق جدید سے موسوم