تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 66

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۶ سورة المؤمنون ہے جس سے متقی لا ہوتی مقام پر پہنچتا ہے اور تولد ثالث پاتا ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۱۶۳ حاشیہ ) اللہ تعالیٰ نے جس قدر قومی عطا فرمائے وہ ضائع کرنے کے لئے نہیں دیئے گئے۔ان کی تعدیل اور جائز استعمال کرنا ہی ان کی نشوونما ہے اس واسطے اسلام نے قومی رجولیت یا آنکھ نکالنے کی تعلیم نہیں دی بلکہ ان کا جائز استعمال اور تزکیہ نفس کرایا جیسے فرما یا قَدُ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ۔ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذلِكَ لَميِّتُونَ۔رپورٹ جلسہ سالانہ ، ۱۸۹۷ء صفحہ ۴۹،۴۸) یعنی اول رفتہ رفتہ خدائے تعالیٰ تم کو کمال تک پہنچاتا ہے اور پھر تم اپنا کمال پورا کرنے کے بعد زوال کی طرف میل کرتے ہو یہاں تک کہ مر جاتے ہو یعنی تمہارے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی قانون قدرت ہے۔کوئی بشر اس سے باہر نہیں۔اے خداوند قدیر اپنے اس قانونِ قدرت کے سمجھنے کے لئے ان لوگوں کو بھی آنکھ بخش جو مسیح ابن مریم کو اس سے باہر سمجھتے ہیں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۰) موت کا لفظ قرآن کریم میں ذوالوجوہ ہے۔کا فر کا نام بھی مردہ رکھا ہے اور ہوا و ہوس سے مرنا بھی ایک قسم کی موت ہے اور قریب الموت کا نام بھی میت ہے اور یہی تینوں وجوہ استعمال حیات میں بھی پائی جاتی یعنی حیات بھی تین قسم کی ہیں۔ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ تُبْعَثُونَ از الما و بام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۴۵) یعنی تم مرنے کے بعد قیامت کے دن اُٹھائے جاؤ گے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۴۵) وہ آیات جن میں لکھا ہے کہ فوت شدہ لوگ پھر دنیا میں نہیں آتے ازاں جملہ یہ آیت ہے۔۔۔ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ تُبْعَثُونَ۔۔کوئی انسان راحت یا رنج عالم معاد کے چکھ کر پھر دنیا میں ہرگز نہیں آتا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۲۰،۶۱۹ حاشیه در حاشیه ) وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَاسْكَتْهُ فِي الْأَرْضِ وَ إِنَّا عَلَى ذَهَابِ بِهِ لقدرون یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا جو کمال طغیان اس کا اس سنِ ہجری میں شروع ہوگا جو