تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 58
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۸ سورة المؤمنون ہر یک قسم کی کجی اور بے راہی سے باز آ کر اور بالکل رو بخدا ہو کر راہ راست کو اختیار کرنا یہ وہی سخت گھائی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں فنا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ امور مالوفہ اور معتادہ کو یک لخت چھوڑ دینا اور نفسانی خواہشوں کو جو ایک عمر سے عادت ہو چکی ہے ایک دفعہ ترک کرنا اور ہر ایک ننگ اور ناموس اور عجب اور ریا سے منہ پھیر کر اور تمام ماسوا اللہ کو کالعدم سمجھ کر سیدھا خدا کی طرف رخ کر لینا حقیقت میں ایک ایسا کام ہے جو موت کے برابر ہے اور یہ موت روحانی پیدائش کا مدار ہے اور جیسے دانہ جب تک خاک میں نہیں ملتا اور اپنی صورت کو نہیں چھوڑ تا تب تک نیادانہ وجود میں آنا غیر ممکن ہے۔ اسی طرح روحانی پیدائش کا جسم اس فنا سے تیار ہوتا ہے۔ جوں جوں بندہ کا نفس شکست پکڑتا جاتا ہے اور اس کا فعل اور ارادت اور رو بخلق ہونا فنا ہوتا جاتا ہے توں توں پیدائش روحانی کے اعضاء بنتے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب فناء اتم حاصل ہو جاتی ہے تو وجود ثانی کی خلعت عطا کی جاتی ہے اور ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ کا وقت آجاتا ہے اور چونکہ یہ فناء اتم بغیر نصرت و توفیق و توجه خاص قادر مطلق کے ممکن نہیں اس لئے یہ دعا تعلیم کی یعنی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ جس کے یہ معنی ہیں کہ اے خدا ہم کو راہ راست پر قائم کر اور ہر ایک طور کی کبھی اور بے راہی سے نجات بخش ۔ (براہین احمد یہ چهار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۰۵ تا ۶۰۹ حاشیہ نمبر ۱۱) اگر یہ وسواس دل میں گزرے کہ پھر اللہ جل شانہ نے مسیح ابن مریم کی نسبت اس قصہ میں جہاں پرندہ بنانے کا ذکر ہے تخلق کا لفظ کیوں استعمال کیا ہے جس کے بظاہر یہ معنی ہیں کہ تو پیدا کرتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ حضرت عیسی کو خالق قرار دینا بطور استعارہ ہے جیسا کہ اس دوسری آیت میں فرمایا ہے فَتَبرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِينَ بلا شبہ حقیقی اور سچا خالق خدا تعالیٰ ہے اور جو لوگ مٹی یا لکڑی کے کھلونے بناتے ہیں وہ بھی خالق ہیں مگر جھوٹے خالق جن کے فعل کی اصلیت کچھ بھی نہیں۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۶۰ حاشیه ) ابتدائی تقویٰ جس کے حصول سے متقی کا لفظ انسان پر صادق آسکتا ہے وہ ایک فطرتی حصہ ہے کہ جو سعیدوں کی خلقت میں رکھا گیا ہے اور ربوبیت اولی اس کی مربی اور وجود بخش ہے جس سے متقی کا پہلا تولد ہے مگر وہ اندرونی نور جو روح القدس سے تعبیر کیا گیا ہے وہ عبودیت خالصہ تامہ اور ربوبیت کا ملہ مستجمعہ کے پورے جوڑ واتصال سے بطرز ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا آخَرَ کے پیدا ہوتا ہے اور یہ ربوبیت ثانیہ ہے جس سے متقی تولد ثانی پاتا ہے اور ملکوتی مقام پر پہنچتا ہے اور اس کے بعد ر بو بیت ثالثہ کا درجہ ہے جو خلق جدید سے موسوم