تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 44
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدلد سورة المؤمنون بغیر تو گل اور خدا کی رازقیت پر ایمان لانے کے ترک نہیں ہو سکتا اور شہوات نفسانیہ محترمہ بغیر استیلاء ہیبت اور عظمتِ الہی اور لذات روحانیہ کے چھوٹ نہیں سکتیں ایسا ہی یہ مرتبہ عظمی کہ ترک نفس کر کے تمام امانتیں خدا تعالیٰ کی اس کو واپس دی جائیں کبھی حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ ایک تیز آندھی عشق الہی کی چل کر کسی کو اس کی راہ میں دیوانہ نہ بنا دے۔ یہ تو درحقیقت عشق الہی کے مستوں اور دیوانوں کے کام ہیں دنیا کے عقلمندوں کے کام نہیں ۔ آسمان بار امانت نتوانست کشید قرعه فال بنام من دیوانه زدند اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (الاحزاب : ۷۳ ) ہم نے اپنی امانت کو جو امانت کی طرح واپس دینی چاہیئے تمام زمین و آسمان کی مخلوق پر پیش کیا۔ پس سب نے اُس امانت کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈرے کہ امانت کے لینے سے کوئی خرابی پیدا نہ ہو مگر انسان نے اس امانت کو اپنے سر پر اٹھا لیا کیونکہ وہ ظلوم اور جہول تھا۔ یہ دونوں لفظ انسان کے لئے محل مدح میں ہیں ن حل مذمت میں اور ان کے معنے یہ ہیں کہ انسان کی فطرت میں ایک صفت تھی کہ وہ خدا کے لئے اپنے نفس پر ظلم اور سختی کر سکتا تھا۔ اور ایسا خدا تعالیٰ کی طرف جھک سکتا تھا کہ اپنے نفس کو فراموش کر دے اس لئے اُس نے منظور کیا کہ اپنے تمام وجود کو امانت کی طرح پاوے اور پھر خدا کی راہ میں خرچ کر دے۔ اور اس پانچویں مرتبہ کے لئے یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَ الَّذِينَ هُمْ لِأَمْلَتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَعُونَ یعنی مومن وہ ہیں جو اپنی امانتوں اور عہدوں کی رعایت رکھتے ہیں یعنی ادائے امانت اور ایفائے عہد کے بارے میں کوئی دقیقہ تقوی اور احتیاط کا باقی نہیں چھوڑتے۔ یہ اس امانت کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کا نفس اور اس کے تمام قو ٹی اور آنکھ کی بینائی اور کانوں کی شنوائی اور زبان کی گویائی اور ہاتھوں پیروں کی قوت یہ سب خدا تعالیٰ کی امانتیں ہیں جو اُس نے دی ہیں اور جس وقت وہ چاہے اپنی امانتوں کو واپس لے سکتا ہے۔ پس ان تمام امانتوں کا رعایت رکھنا یہ ہے کہ بار یک دربار یک تقویٰ کی پابندی سے خدا تعالیٰ کی خدمت میں نفس اور اُس کے تمام قومی اور جسم اور اس کے تمام قومی اور جوارح کو لگایا جائے اس طرح پر کہ گویا یہ تمام چیزیں اُس کی نہیں بلکہ خدا کی ہو جائیں اور اُس کی مرضی سے نہیں بلکہ خدا کی مرضی کے موافق ان تمام قومی اور ء کا حرکت اور سکون ہو اور اس کا ارادہ کچھ بھی نہ رہے بلکہ خدا کا ارادہ اُن میں کام کرے اور خدا تعالیٰ اعضاء کا