تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 43

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳ سورة المؤمنون اسیر ہونا سب بلاؤں سے زیادہ بلا ہے جو خدائے تعالیٰ کے ایک خاص رحم کی محتاج ہے اور جب خدا تعالیٰ کسی کو اس بلا سے نجات دینا چاہتا ہے تو اپنی عظمت اور ہیبت اور جبروت کی ایسی تجلی اس پر کرتا ہے جس سے شہوات نفسانیہ محترمہ پارہ پارہ ہو جاتی ہیں اور پھر جمالی رنگ میں اپنی لطیف محبت کا ذوق اس کے دل میں ڈالتا ہے اور جس طرح شیر خوار بچہ دودھ چھوڑنے کے بعد صرف ایک رات تلخی میں گزارتا ہے بعد اس کے اس دودھ کو ایسا فراموش کر دیتا ہے کہ چھاتیوں کے سامنے بھی اگر اس کے منہ کو رکھا جائے تب بھی دودھ پینے سے نفرت کرتا ہے۔یہی نفرت شہوات محترمہ نفسانیہ سے اُس راستباز کو ہو جاتی ہے جس کو نفسانی دودھ چھڑا کر ایک روحانی غذا اس کے عوض میں دی جاتی ہے۔پھر چوتھی حالت کے بعد پانچویں حالت ہے جس کے مفاسد سے نہایت سخت اور شدید محبت نفس اتارہ کو ہے۔کیونکہ اس مرتبہ پر صرف ایک لڑائی باقی رہ جاتی ہے اور وہ وقت قریب آجاتا ہے کہ حضرت عربات جل شانہ کے فرشتے اس وجود کی تمام آبادی کو فتح کر لیں اور اُس پر اپنا پورا تصرف اور دخل کر لیں اور تمام نفسانی سلسلہ کو درہم برہم کر دیں۔اور نفسانی قومی کے قریہ کو ویران کر دیں۔اور اس کے نمبر داروں کو ذلیل اور پست کر کے دکھلا دیں اور پہلی سلطنت پر ایک تباہی ڈال دیں۔اور انقلاب سلطنت پر ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔اِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَةً وَ كَذلِكَ يَفْعَلُونَ (النمل : ۳۵) اور یہ مومن کے لئے ایک آخری امتحان اور آخری جنگ ہے جس پر اُس کے تمام مراتب سلوک ختم ہو جاتے ہیں اور اس کا سلسلہ ترقیات جو کسب اور کوشش سے ہے انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔اور انسانی کوششیں اپنے آخیر نقطہ تک منزل طے کر لیتی ہیں۔پھر بعد اس کے صرف موہبت اور فضل کا کام باقی رہ جاتا ہے جو خلق آخر کے متعلق ہے۔اور یہ پانچویں حالت چوتھی حالت سے مشکل تر ہے کیونکہ چوتھی حالت میں تو صرف مومن کا کام یہ ہے کہ شہوات محترمہ نفسانیہ کو ترک کرے مگر پانچویں حالت میں مومن کا کام یہ ہے کہ نفس کو بھی ترک کر دے اور اس کو خدا تعالیٰ کی امانت سمجھ کر خدا تعالیٰ کی طرف واپس کرے اور خدا کے کاموں میں اپنے نفس کو وقف کر کے اس سے خدمت لے اور خدا کی راہ میں بذل نفس کرنے کا ارادہ رکھے اور اپنے نفس کی نفی وجود کے لئے کوشش کرے۔کیونکہ جب تک نفس کا وجود باقی ہے گناہ کرنے کے لئے جذبات بھی باقی ہیں جو تقویٰ کے برخلاف ہیں۔اور نیز جب تک وجود نفس باقی ہے ممکن نہیں کہ انسان تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مار سکے یا پورے طور پر خدا کی امانتوں اور عہدوں یا مخلوق کی امانتوں اور عہدوں کو ادا کر سکے۔لیکن جیسا کہ بخل