تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 45
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵ سورة المؤمنون کے ہاتھ میں اس کا نفس ایسا ہو جیسا کہ مُردہ زندہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔اور یہ خود رائی سے بے دخل ہو اور خدا تعالیٰ کا پورا تصرف اس کے وجود پر ہو جائے یہاں تک کہ اُسی سے دیکھے اور اُسی سے سنے اور اُسی سے بولے اور اُسی سے حرکت یا سکون کرے اور نفس کی دقیق در دقیق آلائشیں جو کسی خوردبین سے بھی نظر نہیں آسکتیں دُور ہو کر فقط روح رہ جائے۔غرض مہیمنت خدا کی اس پر احاطہ کر لے اور اپنے وجود سے اس کو کھو دے اور اُس کی حکومت اپنے وجود پر کچھ نہ رہے اور سب حکومت خدا کی ہو جائے اور نفسانی جوش سب مفقود ہو جا ئیں اور الوہیت کے ارادے اُس کے وجود میں جوش زن ہو جائیں۔پہلی حکومت بالکل اُٹھ جائے اور دوسری حکومت دل میں قائم ہو اور نفسانیت کا گھر ویران ہو اور اُس جگہ پر حضرت عزت کے خیمے لگائے جائیں اور ہیبت اور جبروت الہی تمام ان پودوں کو جن کی آب پاشی گندے چشمہ نفس سے ہوتی تھی اس پلید جگہ سے اکھیڑ کر رضا جوئی حضرت علات کی پاک زمین میں لگا دئے جائیں اور تمام آرزوئیں اور تمام ارادے اور تمام خواہشیں خدا میں ہو جائیں اور نفس امارہ کی تمام عمارتیں منہدم کر کے خاک میں ملا دی جائیں اور ایک ایسا پاک محل تقدس اور تطہیر کا دل میں طیار کیا جاوے جس میں حضرت عزبات نازل ہو سکے اور اس کی روح اس میں آباد ہو سکے اس قدر تکمیل کے بعد کہا جائے گا کہ وہ امانتیں جو منعم حقیقی نے انسان کو دی تھیں وہ واپس کی گئیں۔تب ایسے شخص پر یہ آیت صادق آئے گی وَ الَّذِينَ هُمْ لِأَمْنَتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَعُونَ اس درجہ پر صرف ایک قالب تیار ہوتا ہے اور تجلی الہی کی رُوح جس سے مراد محبت ذاتیہ حضرت عزت ہے بعد اس کے مع روح القدس ایسے مومن کے اندر داخل ہوتی اور نئی حیات اُس کو بخشتی ہے اور ایک نئی قوت اس کو عطا کی جاتی ہے اور اگر چہ یہ سب کچھ رُوح کے اثر سے ہی ہوتا ہے لیکن ہنوز روح مومن سے صرف ایک تعلق رکھتی ہے اور ابھی مومن کے دل کے اندر آباد نہیں ہوتی۔پھر بعد اس کے وجود روحانی کا مرتبہ ششم ہے یہ وہی مرتبہ ہے جس میں مومن کی محبت ذاتیہ اپنے کمال کو پہنچ کر اللہ جل شانہ کی محبت ذاتیہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے تب خدا تعالیٰ کی وہ محبت ذاتی مومن کے اندر داخل ہوتی ہے اور اس پر احاطہ کرتی ہے جس سے ایک نئی اور فوق العادت طاقت مومن کو ملتی ہے اور وہ ایمانی طاقت ایمان میں ایک ایسی زندگی پیدا کرتی ہے جیسے ایک قالب بے جان میں رُوح داخل ہو جاتی ہے بلکہ وہ مومن میں داخل ہو کر در حقیقت ایک رُوح کا کام کرتی ہے۔تمام قومی میں اس سے ایک نور پیدا ہوتا ہے۔اور رُوح القدس کی تائید ایسے مومن کے شامل حال ہوتی ہے کہ وہ باتیں اور وہ علوم جو انسانی طاقت سے برتر ہیں وہ اس درجہ کے 1991