تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 28

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۸ سورة المؤمنون دوسر احسن انسان کی پیدائش میں حسن بشرہ ہے۔اور یہ دونوں حسن اگر چہ رُوحانی اور جسمانی پیدائش درجہ پنجم میں نمودار ہو جاتے ہیں لیکن آب و تاب اُن کی فیضانِ رُوح کے بعد ظاہر ہوتی ہے اور جیسا کہ جسمانی وجود کی روح جسمانی قالب طیار ہونے کے بعد جسم میں داخل ہوتی ہے ایسا ہی روحانی وجود کی رُوح روحانی قالب طیار ہونے کے بعد انسان کے روحانی وجود میں داخل ہوتی ہے۔یعنی اُس وقت جب کہ انسان شریعت کا تمام بجوا اپنی گردن پر لے لیتا ہے اور مشقت اور مجاہدہ کے ساتھ تمام حدود الہیہ کے قبول کرنے کے لئے طیار ہوتا ہے اور ورزش شریعت اور بجا آوری احکام کتاب اللہ سے اس لائق ہو جاتا ہے کہ خُدا کی روحانیت اس کی طرف توجہ فرمادے اور سب سے زیادہ یہ کہ اپنی محبت ذاتیہ سے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کی محبت ذاتیہ کا مستحق ٹھہرالیتا ہے جو برف کی طرح سفید اور شہد کی طرح شیر میں ہے۔اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں وجود روحانی خشوع کی حالت سے شروع ہوتا ہے اور روحانی نشو نما کے چھٹے مرتبہ پر یعنی اس مرتبہ پر کہ جب کہ روحانی قالب کے کامل ہونے کے بعد محبت ذاتیہ الہیہ کا شعلہ انسان کے دل پر ایک رُوح کی طرح پڑتا ہے اور دائی حضور کی حالت اس کو بخش دیتا ہے کمال کو پہنچتا ہے اور تبھی روحانی حسن اپنا پورا جلوہ دکھاتا ہے۔لیکن یہ حسن جو روحانی حسن ہے جس کو حسن معاملہ کے ساتھ موسوم کر سکتے ہیں یہ وہ حسن ہے جو اپنی قوی کششوں کے ساتھ حسن بشرہ سے بہت بڑھ کر ہے۔کیونکہ حسن بشرہ صرف ایک یا دو شخص کے فانی عشق کا موجب ہوگا جو جلد زوال پذیر ہو جائے گا اور اس کی کشش نہایت کمزور ہوگی۔لیکن وہ روحانی محسن جس کو حسن معاملہ سے موسوم کیا گیا ہے وہ اپنی کششوں میں ایسا سخت اور زبردست ہے کہ ایک دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ اس کی طرف کھنچا جاتا ہے اور قبولیت دعا کی بھی درحقیقت فلاسفی یہی ہے کہ جب ایسا روحانی حسن والا انسان جس میں محبت البیہ کی رُوح داخل ہو جاتی ہے جب کسی غیر ممکن اور نہایت مشکل امر کے لئے دُعا کرتا ہے اور اُس دُعا پر پورا پورا زور دیتا ہے تو چونکہ وہ اپنی ذات میں حسن روحانی رکھتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے امر اور اذن سے اس عالم کا ذرہ ذرہ اس کی طرف کھینچا جاتا اور ہے۔پس ایسے اسباب جمع ہو جاتے ہیں جو اس کی کامیابی کے لئے کافی ہوں۔تجربہ اور خدا تعالیٰ کی پاک کتاب سے ثابت ہے کہ دنیا کے ہر ایک ذرہ کو طبعاً ایسے شخص کے ساتھ ایک عشق ہوتا ہے اور اُس کی دُعائیں اُن تمام ذرات کو ایسا اپنی طرف کھینچتی ہیں جیسا کہ آہن ربالو ہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔پس غیر معمولی باتیں جن کا ذکر کسی علم طبعی اور فلسفہ میں نہیں اس کشش کے باعث ظاہر ہو جاتی ہیں۔اور وہ کشش طبعی ہوتی ہے۔