تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 29

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۹ سورة المؤمنون جب سے کہ صانع مطلق نے عالم اجسام کو ذرات سے ترکیب دی ہے ہر ایک ذرے میں وہ کشش رکھی ہے اور ہر ایک ذرہ رُوحانی حسن کا عاشق صادق ہے اور ایسا ہی ہر ایک سعید روح بھی۔کیونکہ وہ حسن جلی گاه حق ہے۔وہی حُسن تھا جس کے لئے فرمایا گیا اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ ( البقرة : ۳۵) اور اب بھی بہتیرے ابلیس ہیں جو اس حسن کو شناخت نہیں کرتے مگر وہ حسن بڑے بڑے کام دکھلاتا رہا ہے۔نوح میں وہی حُسن تھا جس کی پاس خاطر حضرت عزت جل شانہ کو منظور ہوئی اور تمام منکروں کو پانی کے عذاب سے ہلاک کیا گیا۔پھر اس کے بعد موسیٰ بھی وہی حسن روحانی لے کر آیا جس نے چند روز تکلیفیں اٹھا کر آخر فرعون کا بیڑا غرق کیا۔پھر سب کے بعد سید الانبیاء وخیر الوریٰ مولانا وسید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم الشان روحانی محسن لے کر آئے جس کی تعریف میں یہی آیت کریمہ کافی ہے دَنَا فَتَدَی فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْن أو أدنى (النجم : ۱۰٠٠٩) یعنی وہ نبی جناب الہی سے بہت نزدیک چلا گیا اور پھر مخلوق کی طرف جُھکا اور اس طرح پر دونوں حقوں کو جو حق اللہ اور حق العباد ہے ادا کر دیا۔اور دونوں قسم کا حسن روحانی ظاہر کیا۔اور دونوں قوسوں میں وتر کی طرح ہو گیا۔یعنی دونوں قوسوں میں جو ایک درمیانی خط کی طرح ہو اور خالق مخلوق اس طرح اس کا وجود واقع ہوا جیسے یہ۔اس حُسن کو نا پاک طبع اور اندھے لوگوں نے نہ دیکھا جیسا درمیانی خلط آنحضرت کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ (الاعراف: ۱۹۹ ) یعنی تیری طرف وہ دیکھتے ہیں مگر تو انہیں دکھائی نہیں دیتا۔آخر وہ سب اندھے ہلاک ہو گئے۔اس جگہ بعض جاہل کہتے ہیں کہ کیوں کامل لوگوں کی بعض دُعائیں منظور نہیں ہوتیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اُن کی تجلی حسن کو خدا تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہوا ہے۔پس جس جگہ یہ تجلی عظیم ظاہر ہو جاتی ہے اور کسی معاملہ میں اُن کا حسن جوش میں آتا ہے اور اپنی چمک دکھلاتا ہے تب اس چمک کی طرف ذرات عالم کھنچے جاتے ہیں اور غیر ممکن باتیں وقوع میں آتی ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں معجزہ کہتے ہیں۔مگر یہ جوش روحانی ہمیشہ اور ہر جگہ ظہور میں نہیں آتا اور تحریکات خارجیہ کا محتاج ہوتا ہے۔یہ اس لئے کہ جیسا کہ خدائے کریم بے نیاز ہے اس نے اپنے برگزیدوں میں بھی بے نیازی کی صفت رکھ دی ہے۔سودہ خدا کی طرح سخت بے نیاز ہوتے ہیں اور جب تک کوئی پوری خاکساری اور اخلاص کے ساتھ اُن کے رحم کے لئے ایک تحریک پیدا نہ کرے وہ قوت اُن کی جوش نہیں مارتی اور عجیب تریہ کہ وہ لوگ تمام دنیا سے زیادہ تر رحم کی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں۔مگر اُس کی تحریک اُن کے اختیار میں نہیں ہوتی گو وہ بارہا چاہتے بھی ہیں کہ وہ قوت ظہور میں