تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 27
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۷ سورة المؤمنون پورا کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: ۵۷) یعنی میں نے پرستش کے لئے ہی جن و انس کو پیدا کیا ہے۔ہاں یہ پرستش اور حضرت عزت کے سامنے دائی حضور کے ساتھ کھڑا ہونا بحجر محبت ذاتیہ کے ممکن نہیں۔اور محبت سے مراد یک طرفہ محبت نہیں بلکہ خالق اور مخلوق کی دونوں محبتیں مراد ہیں تا بجلی کی آگ کی طرح جو مرنے والے انسان پر گرتی ہے اور جو اُس وقت اس انسان کے اندر سے نکلتی ہے بشریت کی کمزوریوں کو جلا دیں اور دونوں مل کر تمام روحانی وجود پر قبضہ کر لیں۔یہی وہ کامل صورت ہے جس میں انسان ان امانتوں اور عہد کو جن کا ذکر وجود روحانی کے مرتبہ پنجم میں تحریر ہے کامل طور پر اپنے اپنے موقع پر ادا کر سکتا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ مرتبہ پنجم میں انسان صرف تقویٰ کے لحاظ سے خدا اور مخلوق کی امانتوں اور عہد کا لحاظ رکھتا ہے اور اس مرتبہ پر محبت ذاتی کے تقاضا سے جوخدا کے ساتھ اس کو ہو گئی ہے جس کی وجہ سے خدا کی مخلوق کی محبت بھی اُس میں جوش زن ہو گئی ہے اور اس رُوح کے نقا ضا سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس پر نازل ہوتی ہے ان تمام حقوق کو طبعاً بوجہ احسن ادا کرتا ہے اور اس صورت میں وہ حسن باطنی جو حسن ظاہری کے مقابل پر ہے بوجہ احسن اس کو نصیب ہو جاتا ہے کیونکہ وجود روحانی کے مرتبہ پنجم میں تو ابھی وہ رُوح انسان میں داخل نہیں ہوئی تھی جو محبت ذاتیہ سے پیدا ہوتی ہے اس لئے جلوۂ حسن بھی ابھی کمال پر نہیں تھا مگر رُوح کے داخل ہونے کے بعد وہ حسن کمال کو پہنچ جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ مردہ خوبصورت اور زندہ خوبصورت یکساں آب و تاب نہیں رکھتے۔جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں انسان کی پیدائش میں دو قسم کے حسن ہیں۔ایک حسن معاملہ اور وہ یہ کہ انسان خدا تعالی کی تمام امانتوں اور عہد کے ادا کرنے میں یہ رعایت رکھے کہ کوئی امر حتی الوسع اُن کے متعلق فوت نہ ہو۔جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں راعُون کا لفظ اس طرف اشارہ کرتا ہے۔ایسا ہی لازم ہے کہ انسان مخلوق کی امانتوں اور عہد کی نسبت بھی یہی لحاظ رکھے یعنی حقوق اللہ اور حقوق عباد میں تقویٰ سے کام لے۔یہ حسن معاملہ ہے یا یوں کہو کہ روحانی خوبصورتی ہے جو درجہ پنجم وجود روحانی میں نمایاں ہوتی ہے مگر ہنوز پورے طور پر چمکتی نہیں اور وجود روحانی کے درجہ ششم میں بوجہ کامل ہونے پیدائش اور روح کے داخل ہو جانے کے یہ خوبصورتی اپنی تمام آب و تاب دکھلا دیتی ہے۔اور یادر ہے کہ مرتبہ ششم و جو دروحانی میں رُوح سے مراد وہ محبت ذاتیہ الہیہ ہے جو انسان کی محبت ذاتیہ پر ایک شعلہ کی طرح پڑتی اور تمام اندرونی تاریکی دُور کرتی اور روحانی زندگی بخشتی ہے اور اس کے لوازم میں سے رُوح القدس کی تائید بھی کامل طور پر ہے۔