تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 390
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۰ سورة الاحزاب کر لیا کرو۔پہلے منع کرنا بھی حکمت رکھتا تھا کہ لوگوں کے خیالات ابھی تازہ تازہ بت پرستی سے ہٹے تھے تاوہ پھر اسی عادت کی طرف عود نہ کریں۔پھر جب دیکھا کہ اب ان کے ایمان کمال کو پہنچ گئے ہیں اور کسی قسم کے شرک و بدعت کو ان کے ایمان میں راہ نہیں تو اجازت دے دی۔بالکل اسی طرح یہ امر ہے۔پہلے تیرہ سو برس اس عظمت کے واسطے نبوت کا لفظ نہ بولا اگر چہ مفتی رنگ میں صفتِ نبوت اور انوار نبوت موجود تھے اور حق تھا کہ ان لوگوں کو نبی کہا جاوے مگر خاتم الانبیاء کی نبوت کی عظمت کے پاس کی وجہ سے وہ نام نہ دیا گیا۔مگر اب وہ خوف نہ رہا تو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے واسطے نبی اللہ کا لفظ فرمایا۔آپ کے جانشینوں اور آپ کی امت کے خادموں پر صاف صاف نبی اللہ بولنے کے واسطے دو امور مدنظر رکھنے ضروری تھے اول عظمت آنحضرت اور دوم عظمت اسلام۔سو آنحضرت کی عظمت کے پاس کی وجہ سے ان لوگوں پر ۱۳۰۰ برس تک نبی کا لفظ نہ بولا گیا تا کہ آپ کی ختم نبوت کی ہتک نہ ہو کیونکہ اگر آپ کے بعد ہی آپ کی امت کے خلیفوں اور صلحاء لوگوں پر نبی کا لفظ بولا جانے لگتا جیسے حضرت موسی کے بعد لوگوں پر بولا جاتا رہا تو اس میں آپ کی ختم نبوت کی ہتک تھی اور کوئی عظمت نہ تھی۔سوخدا نے ایسا کیا کہ اپنی حکمت اور لطف سے آپ کے بعد ۱۳۰۰ برس تک اس لفظ کو آپ کی امت پر سے اٹھا دیا تا آپ کی نبوت کی عظمت کا حق ادا ہو جاوے اور پھر چونکہ اسلام کی عظمت چاہتی تھی کہ اس میں بھی بعض ایسے افراد ہوں جن پر آنحضرت کے بعد لفظ نبی اللہ بولا جاوے اور تا پہلے سلسلہ سے اس کی مماثلت پوری ہو۔آخری زمانہ میں مسیح موعود کے واسطے آپ کی زبان سے نبی اللہ کا لفظ نکلوا دیا اور اس طرح پر نہایت حکمت اور بلاغت سے دو متضاد باتوں کو پورا کیا اور موسوی سلسلہ کی مماثلت بھی قائم رکھی اور عظمت اور نبوت آنحضرت کبھی قائم رکھی۔خاتم ا الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخہ ۷ امرا پریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۹) ۱۷ النبین کی آیت بتلا رہی ہے کہ جسمانی نسل کا انقطاع ہے نہ کہ روحانی نسل کا۔اس لئے جس ذریعہ - وہ نبوت کی نفی کرتے ہیں اسی سے نبوت کا اثبات ثابت ہے۔آنحضرت کی چونکہ کمال عظمت خدا تعالیٰ کو منظور تھی اس لئے لکھ دیا کہ آئندہ نبوت آپ کی اتباع کی مہر سے ہوگی اور اگر یہ معنے ہوں کہ نبوت ختم ہے تو اس سے خدا تعالیٰ کے فیضان کے بخل کی بو آتی ہے ہاں یہ معنے ہیں ہر ایک قسم کا کمال آنحضرت پر ختم ہوا اور پھر آئندہ آپ کی مہر سے وہ کمال آپ کی امت کو ملا کریں گے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۹۹) اس امت میں سابقہ مجددین اور مامورین کا نبی نہ پکارا جانا آنحضرت کی شان اور عظمت کو ثابت کرتا ہے