تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 391

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۱ سورة الاحزاب جس کا فخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی سے موسی کو ہر گز نہیں ہے کیونکہ جب موسیٰ کے بعد نبی کہلانے والے بار بار آئے اور صد ہا ہزار ہا آئے تو اس سے موسیٰ کی کسر شان ہوئی کہ جو خطاب ان کا تھا وہی اوروں کو کثرت سے ملا۔موسی کے بارے میں خاتم النبیین کا لفظ استعمال نہیں ہوا مگر آنحضرت کے حق میں ہوا ہے اس لئے خدا نے اس امت میں یوں کیا کہ بہت سے ایسے پیدا کئے جن کو شرف مکالمہ تو دیا مگر آنحضرت کی شان اور عظمت کے لحاظ سے لفظ نبی کا ان کے حق میں نہ رکھا لیکن اگر اس امت میں کوئی بھی نبی نہ پکارا جاتا تو مماثلت موسوی کا پہلو بہت ناقص ٹھہرتا اور من وجہ امتِ موسوی کو ایک فضیلت ہو جاتی اس لئے یہ خطاب آنحضرت نے خود اپنی زبان مبارک سے ایک شخص کو دے دیا جس نے مسیح ابن مریم ہو کر دنیا میں آنا تھا کیونکہ اس جگہ دو پہلو مد نظر تھے ایک ختم نبوت کا ، اسے اس طرح نبھایا کہ جو نبی کے لفظ کی کثرت موسوی سلسلہ میں تھی اسے اڑا دیا۔دوسری مشابہت اسے اس طرح سے پورا کیا کہ ایک کو نبی کا خطاب دے دیا۔تکمیل مشابہت کے لئے اس لفظ کا ہونا ضروری تھا سو پورا ہو گیا اور جو مصلحت یہاں مد نظر تھی وہ موسوی سلسلہ میں نہیں تھی کیونکہ موسیٰ خاتم نبوت نہیں تھے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۰۲) نبوت کے معنے مکالمہ کے ہیں جو غیب کی خبر دیوے وہ نبی ہے۔اگر آئندہ نبوت کو باطل قرار دو گے تو پھر یہ امت خیر امت نہ رہے گی بلکہ کالانعام ہوگی۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخه ۱/۱۷ پریل ۱۹۰۳ صفحه ۹۹) خدا جس سے پیار کرتا ہے تو اس سے بلا مکالمہ نہیں رہتا۔آنحضرت کی اتباع سے جب انسان کو خدا پیار کرنے لگتا ہے تو اس سے کلام کرتا ہے، غیب کی خبریں اس پر ظاہر کرتا ہے۔اسی کا نام نبوت ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۱۳) نبوت کا لفظ ہمارے الہامات میں دو شرطیں رکھتا ہے اول یہ اس کے ساتھ شریعت نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ بواسطہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۱۲) ہم اگر نبی کا لفظ اپنے لئے استعمال کرتے ہیں تو ہم ہمیشہ وہ مفہوم لیتے ہیں جو کہ ختم نبوت کا حل نہیں ہے اور جب اس کی نفی کرتے ہیں تو وہ معنے مراد ہوتے ہیں جو ختم نبوت کے محل ہیں۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۱۷) معرفت تام انبیا ؤں کو سوائے وحی کے حاصل نہیں ہو سکتی۔جس غرض کے لئے انسان اسلام قبول کرتا ہے اس کا مغز یہی ہے کہ اس کی اتباع سے وحی ملے۔اور پھر اگر وحی منقطع ہوئی مانی بھی جاوے تو