تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 389

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۹ سورة الاحزاب شرف مکالمہ عطا نہیں کیا جاسکتا اور اس پر بس نہیں بلکہ آنحضرت پر اعتراض آتا ہے کہ ایسے بڑے نبی ہو کر ان کی امت ایسی کمزور اور گئی گزری ہے۔ایسا نہیں۔بلکہ بات یوں ہے کہ آنحضرت کے بعد بھی آپ کی امت میں نبوت ہے اور نبی ہیں مگر لفظ نبی کا بوجہ عظمت نبوت استعمال نہیں کیا جاتا لیکن برکات اور فیوض الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخہ ۱/۱۷ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۸) موجود ہیں۔اگر غور سے دیکھا جاوے تو ہمارے نبی کریم کو آپ کے بعد کسی دوسرے کے نبی نہ کہلانے سے شوکت ہے اور حضرت موسیٰ کے بعد اور لوگوں کے بھی نبی کہلانے سے ان کی کسر شان۔کیونکہ حضرت موسیٰ بھی ایک نبی تھے اور ان کے بعد ہزاروں اور نبی بھی آئے تو ان کی نبوت کی خصوصیت اور عظمت کوئی نہیں ثابت ہوتی برعکس اس کے آنحضرت کی ایک عظمت اور آپ کی نبوت کے لفظ کا پاس اور ادب کیا گیا ہے کہ آپ کے بعد کسی دوسرے کو اس نام سے کسی طرح بھی شریک نہ کیا گیا۔اگر چہ آنحضرت کی امت میں بھی ہزاروں بزرگ نبوت کے نور سے منور تھے اور ہزاروں کو انوار نبوت کا حصہ عطا ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہوتا ہے مگر چونکہ آنحضرت کا نام خاتم الانبیاء رکھا گیا تھا اس لئے خدا نے نہ چاہا کہ کسی دوسرے کو بھی یہ نام دے کر آپ کی کسر شان کی جاوے۔آنحضرت کی امت میں سے ہزار ہا انسانوں کو نبوت کا درجہ ملا اور نبوت کے آثار اور برکات ان کے اندر موجزن تھے مگر نبی کا نام اُن پر صرف شانِ نبوت آنحضرت اور سدِ باب نبوت کی خاطر ان کو اس نام سے ظاہر ملقب نہ کیا گیا مگر دوسری طرف چونکہ آنحضرت کے فیوض اور روحانی برکات کا دروازہ بند بھی نہ کیا گیا تھا اور نبوت کے انوار جاری بھی تھے جیسا کہ ولکن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيْنَ سے نکلتا ہے کہ آنحضرت کی مہر اور اذن سے اور آپ کے نور سے نور نبوت جاری بھی ہے اور یہ سلسلہ بند بھی نہیں ہوا۔یہ بھی ضروری تھا کہ اسے ظاہراً بھی شائع کیا جاوے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس طرح سے دونوں امور کا لحاظ نہایت حکمت اور کمال لطافت سے رکھ لیا گیا۔ادھر یہ کہ آنحضرت کی کسر شان بھی نہ ہو اور ادھر موسوی سلسلہ سے مماثلت بھی پوری ہو جاوے۔تیرہ سو برس تک نبوت کے لفظ کا اطلاق تو آپ کی نبوت کی عظمت کے پاس سے نہ کیا اور اس کے بعد اب مدت دراز کے گزرنے سے لوگوں کے چونکہ اعتقاد اس امر پر پختہ ہو گئے تھے کہ آنحضرت ہی خاتم الانبیاء ہیں اور اب اگر کسی دوسرے کا نام نبی رکھا جاوے تو اس سے آنحضرت کی شان میں کوئی فرق بھی نہیں آتا اس واسطے اب نبوت کا لفظ مسیح کے لئے ظاہراً بھی بول دیا۔یہ ٹھیک اسی طرح سے ہے جیسے آپ نے پہلے فرمایا تھا کہ قبروں کی زیارت نہ کیا کرو اور پھر فرما دیا کہ اچھا اب