تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 348 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 348

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۸ سورة الاحزاب شروع ہو گئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے۔ہر یک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں تصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرئیل بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لئے وحی نبوت کے لانے سے منع کیا گیا ہے۔یہ تمام باتیں سچ اور سیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۱۱، ۴۱۲) یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبین کے بعد پھر جبرئیل علیہ السلام کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمد و رفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ کو مضمون میں قرآن شریف سے توار در کھتی ہو پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۱۴) محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا۔یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔پس اس سے بھی بکمال وضاحت ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ دنیا میں آنہیں سکتا کیونکہ مسیح ابن مریم رسول ہے اور رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرئیل حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع ہے۔اس سے ضروری طور پر یہ ماننا پڑتا ہے کہ مسیح ابن مریم ہرگز نہیں آئے گا اور یہ امر خود مستلزم اس بات کو ہے کہ وہ مر گیا۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۲،۴۳۱) قرآن کریم بعد خاتم المین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو کیونکہ رسول کو النه علم دین بتوسط جبرئیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرا یہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آوے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۱۱) محدث نبی بالقوہ ہوتا ہے اور اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو ہر یک محدث اپنے وجود میں قوت اور استعداد نبی ہو جانے کی رکھتا تھا اور اسی قوت اور استعداد کے لحاظ سے محدث کا حمل نبی پر جائز ہے یعنی کہہ سکتے ہیں کہ الْمُحَدِّثُ نبی جیسا کہ کہہ سکتے ہیں کہ الْعِنَبُ خَمْرٌ نَظرًا عَلَى الْقُوَّةِ وَالْإِسْتِعْدَادِ وَمَثَلُ هذَا الْحَمْلِ شَائِعٌ مُتَعَارَفُ فِي عِبَارَاتِ الْقَوْمِ وَ قَدْ جَرَتِ الْمُحَاوَرَاتُ عَلَى ذَالِكَ كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى كُلِّ ذَكِيْ عَالِمٍ مُطَلِع عَلَى كُتُبِ الْآدَبِ وَالْكَلَامِ وَالتَّصَوُّف اور اسی حمل کی طرف اشارہ ہے جو