تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 347
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۷ سورة الاحزاب مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ رِجَالِكُمْ وَلكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ - اللهِ وَخَاتَمَ النَّمين توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۱،۶۰) (ترجمه از مرتب) کیوں کر ممکن تھا کہ خاتم النبین کے بعد کوئی اور نبی اسی مفہوم تام اور کامل کے ساتھ جو نبوت تامہ کی شرائط میں سے ہے آسکتا۔کیا یہ ضروری نہیں کہ ایسے نبی کی نبوت تامہ کے لوازم جو وحی اور نزول جبرئیل ہے اس کے وجود کے ساتھ لازم ہونی چاہیے کیونکہ حسب تصریح قرآن کریم رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام و عقائد دین جبرئیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی اور اگر کہو کہ مسیح ابن مریم نبوت تامہ سے معزول کر کے بھیجا جائے گا تو اس سزا کی کوئی وجہ بھی تو ہونی چاہیے۔بعض کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے استحقاق معبود قرار دیا گیا تھا سو خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ اس کی سزا میں نبوت سے اس کو الگ کر دیا جائے اور وہ زمین پر آکر دوسروں کے پیرو بنیں اوروں کے پیچھے نماز پڑھیں اور امام اعظم کی طرح صرف اجتہاد سے کام لیں اور حنفی الطریق ہو کر حنفی مذہب کی تائید کریں لیکن یہ جواب معقول نہیں ہے خدائے تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس الزام سے ان کو بری کر دیا ہے اور ان کی نبوت کو ایک دائمی نبوت قرار دیا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۸۷) خاتم النبین کے بعد مسیح ابن مریم رسول کا آنا فساد عظیم کا موجب ہے۔اس سے یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ وجی نبوت کا سلسلہ پھر جاری ہو جائے گا اور یا یہ قبول کرنا پڑے گا کہ خدائے تعالیٰ مسیح ابن مریم کو لوازم نبوت سے الگ کر کے اور محض ایک امتی بنا کر بھیجے گا اور یہ دونوں صورتیں ممتنع ہیں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۹۳) خاتم النبین ہونا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔ہاں ایسا نبی جو مشکوۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتا ہے اور نبوت تامہ نہیں رکھتا جس کو دوسرے لفظوں میں محدث بھی کہتے ہیں وہ اس تحدید سے باہر ہے کیونکہ وہ باعث اتباع اور فنافی الرسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے جیسے جز کل میں داخل ہوتی ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۱۱،۴۱۰) اگر چہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لاویں اور پھر چپ ہو جاویں یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی