تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 349 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 349

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۹ سورة الاحزاب اللہ جل شانہ نے اس قراءت کو جو وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِي وَلَا مُحَدَّت ہے مختصر کر کے قراءت ثانی میں صرف یہ الفاظ کا فی قرار دیئے کہ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِي - ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۳۹،۲۳۸) مَا كَانَ اللهُ أَن يُرْسِلَ نَبِيًّا بَعْدَ اللہ تعالیٰ ہمارے نبی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے نَبِيِّنَا خَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَ مَا كَانَ آن بعد کوئی نبی نہیں بھیجے گا نہ سلسلہ نبوت کے منقطع ہونے تُحدِثَ سِلْسِلَةَ النُّبُوَّةِ ثَانِيَا بَعْد کے بعد اسے دوبارہ جاری کرے گا اور نہ ایسا ہوسکتا ہے انْقِطَاعِهَا وَيَنْسَخَ بَعْضَ احْکامِ الْقُرْآنِ کہ وہ قرآن کریم کے بعض احکام کو منسوخ کرے یا ان و يَزِيدَ عَلَيْهَا وَ يُخْلِفَ وَعْدَهُ وَ يَنْسی میں اضافہ کرے اور اپنے وعدہ کی خلاف ورزی الْمَالَهُ الْفُرْقَانَ وَ يُحْدِكَ الْفِتَنَ في کرے اور بھول جائے کہ وہ قرآن مجید کو کامل کر چکا ہے الدين المتين۔أَلا تَفْرَ ونَ في أَحَادِيثِ اور دین متین میں فتنے پیدا ہونے کی راہ کھول دے۔کیا الْمُصْطَفى سَلَّمَ اللهُ عَلَيْهِ وَصَلى آن تم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث نہیں پڑھتے کہ الْمَسِيحَ يَكُونُ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ وَيَتَّبِعُ آنے والا مسیح آپ کی ہی امت کا ایک فرد ہوگا اور آپ جَمِيعَ أَحْكَامِ مِلَّتِهِ وَيُصَلِّي مَعَ الْمُصَلَّيْنَ کے دین کے تمام احکام کی اتباع کرے گا اور مسلمانوں ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۳۷۷) کے طریق پر نماز ادا کرے گا۔(ترجمہ از مرتب) قرآن کریم میں ایک جگہ رسل کے لفظ کے ساتھ بھی مسیح موعود کی طرف اشارہ ہے لیکن یہ سوال کہ ان ہی الفاظ کے ساتھ جو احادیث میں آئے ہیں کیوں قرآن میں ذکر نہیں کیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ تا پڑھنے والوں کو دھوکا نہ لگ جاوے کہ مسیح موعود سے مراد در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام ہی ہیں جن پر انجیل نازل ہوئی تھی اور ایسا ہی دجال سے کوئی خاص مفسد مراد ہے سو خدا تعالیٰ نے فرقان حمید میں ان تمام شبہات کو دور کر دیا۔اس طرح پر کہ اول نہایت تصریح اور توضیح سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کی خبر دی جیسا کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ (المائدة : ۱۱۸) سے ظاہر ہے اور پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الانبیاء ہونا بھی ظاہر کر دیا جیسا کہ فرما یا و لکن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ - (شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۶۱) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محض اُمیوں کے لئے نہیں بھیجے گئے بلکہ ہر یک رتبہ اور طبقہ کے انسان اُن کی اُمت